امریکہ اور ایران کے مابین اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (MOU) کے تحت باقاعدہ تکنیکی مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے، جس کے باعث وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ مؤخر کر دیا گیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں عالمی قوتوں کے درمیان اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر بڑی کامیابی اور بریک تھرو کے بعد اب فریقین نے اس جامع فریم ورک پر عملی عملدرآمد شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے روایتی یا رسمی دوروں کے بجائے اب تمام تر توجہ طے شدہ امور پر منظم انداز میں آگے بڑھنے پر مرکوز ہو چکی ہے۔ تہران اور واشنگٹن کے مابین اس جامع مفاہمتی یادداشت میں شامل مختلف حساس امور پر تکنیکی سطح کے مذاکرات اب الگ سے منعقد کیے جائیں گے۔
اس بڑی سفارتی پیش رفت کے بعد، پاکستان نے عالمی سفارت کاری کے میدان میں ایک ایسا غیر معمولی اور تاریخی بریک تھرو حاصل کر لیا ہے جس کا تصور بھی ناممکن دکھائی دے رہا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ کینسل نہیں ھوا آن ہولڈ ھے سنئیر صحافی طلعت حسین کے مطابق ممکن ھے ایران امریکہ کے درمیان معاہدہ ھونے کے بعد مذاکرات کا پہلا دور سوئٹزرلینڈ میں ھو جائے اُس میں وزیراعظم شہباز شریف شرکت کریں
— Muzamil (@muzamil_45) June 18, 2026
فریقین کی جانب سے ڈیجیٹل دستخطوں کے بعد یہ جامع معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو کر اب باقاعدہ نفاذ کے عمل سے گزر رہا ہے۔ اس پورے عمل میں پاکستان کا کلیدی کردار دونوں عالمی قوتوں کو ایک متفقہ فریم ورک فراہم کرنا، جاری علاقائی بحران کو ختم کرنا اور معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ایک منظم اور باقاعدہ راستہ بنانا تھا، اور پاکستان یہ ہدف کامیابی سے حاصل کر چکا ہے۔
اس تاریخی سفارتی پیش رفت کے بعد اب یہ عمل اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جس کے تحت مختلف اہم امور پر تکنیکی سطح کے مذاکرات کے لیے الگ الگ ٹریکس (مراحل) تشکیل دیے جائیں گے۔ ان تکنیکی مذاکرات میں اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، بحری سیکیورٹی، جوہری امور سے متعلق اقدامات، معاہدے کی تصدیق کے طریقہ کار، اقدامات کی ترتیب اور علاقائی ضمانتوں جیسے انتہائی اہم موضوعات شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام آباد نے محض ایک روایتی سفارتی تقریب کی میزبانی نہیں کی، بلکہ ایک ایسا جامع اور ٹھوس فریم ورک تشکیل دیا ہے جو اب ماہرین کی سطح پر تفصیلی کام کا تقاضا کرتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ اس لیے مؤخر ہوا کیونکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MOU) پر پہلے ہی الیکٹرانک دستخط ہو چکے ہیں اور اس پر عمل درآمد جاری ہے۔ جامع مفاہمتی یادداشت میں شامل مختلف امور پر تکنیکی سطح کے مذاکرات الگ سے منعقد کیے جائیں گے۔





