خیبر پختونخوا میں اربوں روپے کے فلاحی و روزگار منصوبے فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث شدید بحران کا شکار

محمد اعجاز آفریدی

خیبر پختونخوا میں نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور غریب عوام کو چھت دینے کے بلند و بانگ سرکاری دعووں اور زمینی حقائق میں بڑا تضاد سامنے آیا ہے۔

صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کی مبینہ عدم دلچسپی اور فنڈز کی عدم ریلیز کے باعث صوبے میں احساس روزگار پروگرام، احساس نواجوان پروگرام اور احساس اپنا گھر سکیم شدید سست روی اور تعطل کا شکار ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں مستحق افراد اور نوجوان مایوسی کا شکار ہیں۔

اس سلسلے میں فلاحی ادارے اخوت اسلامک مائیکروفنانس نے چیف سیکرٹری کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے جس میں صوبے کے جاری اور مجوزہ فلاحی منصوبوں میں حائل بیوروکریٹک رکاوٹوں اور فنڈز کی سنگین قلت کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیاہے کہ محکمہ سوشل ویلفیئر خیبرپختونخوا نے احساس روزگار پروگرام آغاز نومبر 2024ء میںکیا گیا تھا۔ اس پروگرام کے لئے حکومت نے 4 ارب روپے مختص کیے تھے، تاکہ غریب خاندانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جا سکے۔

حیرت انگیز طور پر گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران حکومت کی جانب سے اس بھاری رقم میں سے صرف اور صرف 40ملین یعنی چار کروڑ روپے جاری کیے جا سکے جو منصوبے کی کل لاگت کا صرف ایک فیصد حصہ بنتاہے جبکہ حکومت کی جانب سے احساس روگار پروگرام کے بجٹ کا 99 فیصد حصہ دبا کر بیٹھنے کے باعث اس وقت 3 ہزار سے زائد غریب اور مستحق امیدوار مالی امداد کے منتظر ہیں ۔

اس خط نے حکومت کے بلند وبانگ دعوی کا پردہ چاک کردیا۔احسا س روزگار پروگرام کےلئے 3 ہزار سے زائد افراد کی درخواستیں فائلوں میں دبی پڑی ہیں جو صوبائی حکومت کی غریب پرور پالیسیوں پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ۔

دستاویز کے مطابق یوتھ افیئرز ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام جاری “احساس نوجوان پروگرام” بھی فنڈز کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سست روی کا شکار ہے۔ اس پروگرام کےلئے منظور شدہ 2 ارب روپے میں سے اخوت کو اب تک 1.4 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں، جبکہ بقایا 600 ملین روپے تاحال جاری نہ ہوسکے ، اس طرح صوبے کے مزید نوجوان اس پروگرام سے مستفید نہیں ہوپا رہے ہیں۔

بتایا جاتاہے کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کی خصوصی ہدایات کے باوجود قبائلی اضلاع یعنی ضم شدہ اضلاع کے نوجوانوں کے لئے 2 ارب روپے کے لاگت سے احساس نوجوان پروگرام کے طرز پر ایک اور پروگرا

یہ بھی پڑھیں : کوہستان کرپشن کیس: نیب نے 6 ارب روپے کے ضبط شدہ اثاثے خیبرپختونخوا حکومت کے سپرد کر دیے

م کی منظوری اور عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔ جس سے ضم شدہ اضلاع کے پسماندہ نوجوانوں میں احساسِ محرومی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

دستاویز کے مطابق حکومت نے احساس اپنا گھر اسکیم کا اعلان تو کردیاہے جس سے غریب اورکم آمد نی والے خاندانوں کے مستفیدہونے کی امید تھی تاہم محکمہ ہاؤسنگ خیبرپختونخوا کی روایتی سستی یہ منصوبہ بھی لٹک گیاہے ۔

دستاویزات کے مطابق، غریب اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لئے “احساس اپنا گھر اسکیم” کا مسودہ یعنی ڈرافٹ ایگریمنٹ ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ اور اخوت کے مابین طویل مشاورت کے بعد تقریباً فائنل ہو چکا ہے۔ تاہم، یہاں بھی روایتی سرکاری سستی آڑے آ رہی ہے۔

خط میں التجا کی گئی ہے کہ بقیہ دفتری اور ضابطگی کارروائیوں کو جلد از جلد نمٹایا جائے تاکہ صوبے بھر میں غریب خاندانوں کے لئے مکانات کی تعمیر کا کام عملی طور پر شروع ہو سکے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ان فلاحی منصوبوں کی ہرجگہ کریڈیٹ لی ہے تاہم حقائق میں صوبائی حکومت ان منصوبوں میں دلچسپی نہیں لے رہی ہے جس کی وجہ سے خیبرپختونخوا کا نوجوان اور غریب طبقہ درخواستیں دینے کے باوجود تاحال ان سکیموں سے محروم ہیں

Scroll to Top