قومی احتساب بیورو (نیب) نے کوہستان مالیاتی اسکینڈل کے چھ ارب روپے سے زائد مالیت کے برآمد شدہ اثاثے باقاعدہ طور پر خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے کر دیے ہیں۔
پشاور میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ نے یہ اثاثے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کے سپرد کیے۔
نیب اعلامیے کے مطابق پہلی قسط میں صوبائی حکومت کو منتقل کی جانے والی ان اشیاء میں بھاری نقد رقم، سونا، قیمتی اراضی اور مہنگی گاڑیاں شامل ہیں جن کی مجموعی مالیت 6 ارب روپے سے زیادہ بنتی ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے واضح کیا کہ یہ تاریخی کامیابی ایک منظم اور پیشہ ورانہ تفتیش کا ثمر ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں سرکاری فنڈز سے مجموعی طور پر 37 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم کے مبینہ غبن کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس پیچیدہ اور بڑے اسکینڈل کی جڑوں تک پہنچنے کے لیے نیب خیبرپختونخوا کی ٹیم نے 1500 سے زائد بینک اکاؤنٹس کا باریک بینی سے فرانزک اور مالیاتی تجزیہ کیا، جس کی بدولت سرکاری پیسے کی خرد برد میں ملوث پورا نیٹ ورک بے نقاب ہوا۔
انہوں نے اس کامیاب ترین تفتیش پر ڈی جی نیب خیبرپختونخوا فرمان اللہ اور ان کی تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا جن کی شب و روز محنت سے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا ایک بڑا حصہ واپس حاصل کرنا ممکن ہوا ہے۔
چیئرمین نیب نے مزید بتایا کہ اس کیس میں ملزمان سے بقایاجات اور دیگر اثاثوں کی ریکوری کا عمل ابھی رکا نہیں ہے بلکہ تیزی سے جاری ہے، اور جیسے ہی قانونی تقاضے مکمل ہوں گے، مزید اثاثے بھی صوبائی حکومت کو منتقل کر دیے جائیں گے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی فنڈز قومی امانت ہیں اور کرپٹ عناصر کے خلاف بغیر کسی تفریق کے سخت کارروائی جاری رہے گی۔





