سینئر صحافی طلعت حسین ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کو کم کرنے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان کے پسِ پردہ کلیدی اور تاریخی کردار کا انکشاف کرتے ہوئے14 بڑی سفارتی اقدامات کی تفصیلات بتادی۔
ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ جب ایران پر حملوں کا پہلے مرحلے شروع ہوا تو پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جس نے فوری طور پر امن مذاکرات کا مطالبہ کیا۔ پاکستان نے اس پورے نازک سفارتی مشن کے دوران کسی بھی فریق کی طرف داری کیے بغیر طاقت کے استعمال کی کھل کر مذمت کی اور ایک بہترین توازن برقرار رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اس وقت واشنگٹن اور تہران کے مابین پردے کے پیچھے سفارت کاری کا آغاز کیا جب دنیا کا کوئی دوسرا ملک اس معاملے میں قدم رکھنے یا ثالثی کے لیے تیار نہیں تھا، اور بالآخر پاکستان دونوں ممالک کو امن بات چیت شروع کرنے پر راضی کرنے میں کامیاب رہا۔
Pakistan’s 14 high points
1: Among the first countries to call for peace talks when the first phase of the attacks on Iran started.
2: Condemned use of force without picking sides in a delicate balancing act on a tight diplomatic rope.— Syed Talat Hussain (@TalatHussain12) June 18, 2026
طلعت حسین کے مطابق پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان اس نازک رابطے کو سبوتاژ کرنے کی اسرائیلی کوششوں اور غزہ و لبنان میں اس کے مظالم کی کھل کر مذمت کی۔ پاکستان نے ایک طرف بھارت، طالبان اور دہشت گردی جیسے داخلی و خارجی خطرات اور گرم محاذوں کا سامنا کیا اور دوسری طرف اس امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے انتھک محنت کی۔ جب امریکی اور ایرانی رہنماؤں کے سخت بیانات نے سفارتی تعطل پیدا کیا تو پاکستان نے انہیں صورتحال سے نکلنے کے لیے متعدد سفارتی راستے فراہم کیے۔ اس عمل کو زندہ رکھنے کے لیے پاکستان نے غیر معمولی اقدامات کیے جن میں عسکری قیادت کا کئی روز تک ایران میں قیام، ایرانی سپریم لیڈر کو خط کا ارسال کیا جانا اور وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکی صدر کو تحمل کی اپیل شامل ہے۔
سینئر صحافی نے مزید بتایا کہ پاکستان نے دونوں فریقین کے لیے باہمی طور پر قابل قبول بیانات اور مفاہمت کی یادداشتوں کا متن تیار کرنے میں بھی مدد کی اور خود کریڈٹ لیے بغیر دیگر ممالک کی ثالثی کا بھی خیرمقدم کیا۔ جعلی خبروں اور اندرونی معلومات کے لیک ہونے کے اس دور میں پاکستان نے انتہائی رازداری برقرار رکھی اور کسی بھی مرحلے پر کوئی معلومات میڈیا تک نہیں پہنچنے دیں۔ پاکستان نے تمام بھاری اور مشکل کام خود کرنے کے باوجود پبلک پروفائل کو کم رکھا اور پسِ پردہ رہ کر کام کیا۔ روایتی دوستوں کی جانب سے آنے والے سخت اور اشتعال انگیز پالیسی بیانات کے باوجود پاکستان نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا اور متحدہ عرب امارات اور ایران جیسے متضاد مفادات رکھنے والے ممالک کے درمیان بھی مفاہمت پیدا کی۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی واشنگٹن یا تہران میں مایوسی پھیلی تو پاکستان نے ان کے اضطراب کو دور کیا اور چھوٹی موٹی تکنیکی تفصیلات میں الجھے بغیر لچکدار راستہ اپنانے پر زور دیا تاکہ اصل ہدف یعنی امن معاہدے کو حاصل کیا جا سکے۔





