مردان: سکھ جوڑے کے ساتھ پیش آئے واقعے کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت

مردان کے مقامی گوردوارہ میں سکھ جوڑے کے لرزہ خیز قتل کے واقعے میں ملوث پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ڈی پی او مردان مسعود احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے باقاعدہ تصدیق کی ہے کہ سکھ جوڑے کے قتل کے واقعے میں ملوث پولیس کانسٹیبل کو گرفتار کیا جا چکا ہے جس کی شناخت شیر شاہ ولد نادر شاہ (سکنہ امازو گڑھی حال مقیم ایران آباد) کے نام سے ہوئی ہے۔

پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے ملزم کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والا پستول اور موٹر سائیکل بھی برآمد کر لی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا ،مردان سے افسوسناک خبر آگئی

تفتیش کے حوالے سے اہم انکشاف کرتے ہوئے ڈی پی او مردان نے بتایا کہ گرفتار ملزم ماضی میں اسی گوردوارہ پر باقاعدہ سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات رہا ہے جس کی وجہ سے وہ وہاں کے ماحول سے اچھی طرح واقف تھا۔

پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا گیا کہ تاوقتِ تفتیش ملزم کا کسی بھی کالعدم تنظیم یا دہشت گرد گروپ سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار اہلکار شدید مذہبی ذہنیت کا حامل بتایا جاتا ہےتاہم قتل کی اصل وجہ اور عناد ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہو سکی ہے۔

ڈی پی او مردان کا کہنا تھا کہ ملزم سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے اور بہت جلد تمام تر حقائق اور اصل محرکات سامنے آ جائیں گے۔

Scroll to Top