بجٹ تقریر کے دوران خاتون رکن اچانک وزیراعلیٰ کے سامنے آ گئیں، سہیل آفریدی نے کیا کہا؟ جانیے

بجٹ تقریر کے دوران خاتون رکن اچانک وزیراعلیٰ کے سامنے آ گئیں، سہیل آفریدی نے کیا کہا؟ جانیے

خیبر پختونخوا اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرنے کے دوران اس وقت ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب اپوزیشن کی خواتین ارکان نے شدید احتجاج اور نعرے بازی شروع کر دی۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے شور شرابا کیا، جس سے ایوان کی کارروائی متاثر ہوئی۔ احتجاج شدت اختیار کر گیا تو خواتین ارکان اسپیکر ڈائس تک پہنچ گئیں، جہاں حکومتی اور اپوزیشن خواتین کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی۔

اس دوران اپوزیشن کی ایک خاتون رکن وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے قریب پہنچ گئیں اور احتجاجاً انہیں کچھ دستاویزات دکھاتی رہیں، جبکہ اپوزیشن ارکان مسلسل نعرے بازی کرتے رہے۔ شور شرابے کے باعث وزیراعلیٰ کو اپنی تقریر میں وقفہ بھی لینا پڑا۔

بعد ازاں احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا اور اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے، جس پر صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں کو طلب کرنا پڑا۔

بجٹ تقریر کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ جب تک انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، وہ کسی بھی مجوزہ ڈرافٹ پر دستخط نہیں کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے اہلِ خانہ کی ملاقاتیں بحال کی جائیں۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ عمران خان کا علاج ان کے ذاتی معالجین کی نگرانی میں، اہلِ خانہ کی موجودگی کے ساتھ کسی بہترین اسپتال میں کرایا جائے، جبکہ انہیں اپنے بیٹوں سے ہر ہفتے باقاعدہ بات چیت کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے کا 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ بجٹ کا مجموعی حجم 2 ہزار 170 ارب روپے جبکہ آمدن کا تخمینہ 2 ہزار 122 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ صوبے کا خسارہ قرض لے کر پورا نہیں کیا جائے گا بلکہ دستیاب وسائل اور بہتر مالی نظم و نسق کے ذریعے اس کا ازالہ کیا جائے گا۔

Scroll to Top