عدالت نے 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی کےمتعدد رہنماؤں کو 10،10 سال قید کی سزا ، جبکہ شاہ محمود قریشی کو بری کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی 2023 کے واقعات کے دوران مغلپورہ میں پولیس گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے کے مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے متعدد اہم رہنماؤں کو 10،10 سال قید کی سزا سناتے ہوئے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو مقدمے سے بری کر دیا۔
لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں قائم خصوصی عدالت میں مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید سمیت 12 ملزمان کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی۔
عدالت نے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو شواہد کی بنیاد پر مقدمے سے بری کرنے کا حکم دیا۔ شاہ محمود قریشی اس سے قبل بھی 9 مئی سے متعلق متعدد مقدمات میں بری ہو چکے ہیں۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق مقدمے میں ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت 22 ملزمان کے خلاف چالان جمع کرایا گیا تھا۔ دورانِ سماعت پراسیکیوشن کے 37 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے اور ان پر جرح مکمل کی گئی۔ کیس کی کارروائی کے دوران دو ملزمان، ارباز زمان اور الٰہی بخش، اشتہاری قرار دیے گئے۔
مقدمے میں مجموعی طور پر 22 ملزمان کا ٹرائل شروع ہوا تھا، تاہم دو ملزمان کے اشتہاری قرار دیے جانے کے بعد 20 افراد کے خلاف کارروائی جاری رہی۔ عدالت نے ان میں سے 15 ملزمان کے حوالے سے فیصلہ سنایا، جبکہ 12 ملزمان کو سزا دی گئی۔
عدالت نے 18 جون کو فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو آج سنایا گیا۔ یہ لاہور میں 9 مئی کے واقعات سے متعلق آٹھویں مقدمے کا فیصلہ ہے، جبکہ شہر میں ان واقعات کے حوالے سے مجموعی طور پر 14 مقدمات درج ہیں۔
یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو مختلف شہروں میں احتجاج اور پرتشدد واقعات پیش آئے تھے، جن کے بعد پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف دہشت گردی، جلاؤ گھیراؤ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔





