کچھ لوگوں کو مچھر دوسروں کی نسبت زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ نئی تحقیق سامنے آگئی

اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی جگہ موجود افراد میں سے بعض لوگ مچھروں کا آسان شکار بن جاتے ہیں جبکہ دیگر نسبتاً محفوظ رہتے ہیں، ماہرین کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی سائنسی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جسم کی مخصوص بو، سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂)، جلد کی کیمیائی ساخت، جسمانی حرارت اور حتیٰ کہ کپڑوں کا رنگ بھی اس بات پر اثر انداز ہوتا ہے کہ مچھر کس شخص کو زیادہ نشانہ بنائیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھر اپنے شکار کی تلاش کے لیے ایک پیچیدہ حیاتیاتی نظام استعمال کرتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو محسوس کرتے ہیں اور پھر جسم کی بو، حرارت اور دیگر کیمیائی اشاروں کی مدد سے اپنے ہدف کا تعین کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق مچھر انسانی جلد سے خارج ہونے والے درجنوں کیمیائی مرکبات کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں ایک اہم مرکب “1-Octen-3-ol” بھی شامل ہے، جو جلد پر موجود قدرتی چکنائی کے ٹوٹنے سے پیدا ہوتا ہے اور مچھروں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔

ماضی میں یہ تصور عام تھا کہ خون کا گروپ، خصوصاً گروپ O، مچھروں کی توجہ حاصل کرنے کی بنیادی وجہ ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق خون کے گروپ کے مقابلے میں جسم کی قدرتی بو کہیں زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انسانی جلد پر موجود بیکٹیریا ایک منفرد کیمیائی شناخت پیدا کرتے ہیں اور بعض افراد کی بو مچھروں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ پسند آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، مزید 4 مریضوں میں وائرس کی تصدیق

تحقیقی نتائج سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حاملہ خواتین، زیادہ وزن یا قد و قامت رکھنے والے افراد، ورزش کے فوراً بعد موجود لوگ، زیادہ پسینہ آنے والے افراد اور وہ اشخاص جن کے جسم سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے، مچھروں کا زیادہ آسان ہدف بن سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مچھر سیاہ، گہرے نیلے اور سرخ رنگ کے کپڑوں کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں، خصوصاً اس وقت جب وہ پہلے ہی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا سراغ پا چکے ہوں۔ اس کے برعکس سفید، ہلکے سبز اور دیگر ہلکے رنگ مچھروں کی توجہ نسبتاً کم حاصل کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مچھروں کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، تاہم ان کی عادات اور رویوں کو بہتر طور پر سمجھ کر زیادہ مؤثر حفاظتی تدابیر اور جدید ریپیلنٹس تیار کیے جا سکتے ہیں، جو انسانوں کو مچھروں سے لاحق خطرات سے بچانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

Scroll to Top