گھمانے والا کام میں نے بھی کیا ہوا ہے، مجھے کوئی گھما نہیں سکتا، علی امین گنڈاپور کا اسمبلی میں اظہارِ خیال

خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تجربہ کار ہیں اور انہیں کوئی گھما نہیں سکتا۔

علی امین گنڈا پور نے کہا کہ گھمانے والا کام میں نے بھی کیا ہوا ہے، میں بھی کئی اہم عہدوں پر رہا ہوں، مجھے کوئی گھما پھرا نہیں سکتا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اس ایوان میں عوام کی بہتری کے لیے فیصلے نہیں ہو رہے اور ہم کسی نہ کسی سطح پر غلامی کے نظام میں جکڑے ہوئے ہیں چاہے وہ سیاسی جماعت ہو، ادارہ ہو یا شخصیات، اس صورتحال کے باعث عوام کو ریلیف نہیں مل پا رہا۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مسائل کا حل باہمی مشاورت سے نکل سکتا ہے اور موجودہ نظام کو تبدیل کرنا ہوگا ورنہ موجودہ اور آئندہ نسلیں اس کے نتائج بھگتیں گی۔

انہوں نے اپنے دورِ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک روپیہ کا قرضہ نہیں لیا اور قرض صرف ایسے منصوبوں کے لیے ہونا چاہیے جو ریونیو جنریشن کا باعث بنیں، کسی ایک ضلع کے لیے قرض لینا پورے صوبے پر بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔

سابق وزیراعلیٰ علی امین نے کہا کہ وہ اسمبلی میں اب ایک عام رکن کی حیثیت سے آزاد ہو کر بات کر رہے ہیں اور ان پر کسی قسم کی قدغن نہیں ہے۔

انہوں نے صحت انصاف کارڈ کو ایک انقلابی منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اپنی انشورنس کمپنی بنانی چاہیے تاکہ اس نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ نے صوبائی بجٹ کو ’’کاپی پیسٹ بجٹ‘‘ قرار دے دیا

ترقیاتی بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 200 ارب روپے کے خوشحال ہزارہ پروگرام کے لیے صرف 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے یہ منصوبہ عملی طور پر کئی دہائیوں تک مکمل نہیں ہو سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ سازی میں توازن نہیں رکھا جا رہا اور بعض اوقات ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ غیر حقیقی اہداف رکھے جا رہے ہیں۔

اپوزیشن اور حکومتی حلقوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنے دور میں بعض مواقع پر اپوزیشن حلقوں میں فنڈز دیے اور وہ اس پر تنقید کو تسلیم کرتے ہیں۔

اپنے خطاب میں انہوں نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا، اسلام بھی عدل و انصاف پر مبنی نظام کی تلقین کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ترقی نہ ہونے کی بڑی وجہ انصاف کا فقدان ہے جبکہ قانون سازی کے باوجود اس کے ثمرات عام عوام تک نہیں پہنچ رہے۔

انہوں نے کہا کہ آئینی طور پر دیے گئے حقوق عملی طور پر عوام کو میسر نہیں اور یہی صورتحال اجتماعی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ انصاف کے بغیر نہ معاشرہ چل سکتا ہے اور نہ ہی ریاست مضبوط ہو سکتی ہے اس لیے نظام کی بہتری ناگزیر ہے۔

Scroll to Top