زیاد علی شاہ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک بزرگ کارکن نے روالپنڈی میں اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پارٹی کی قیادت اور حکمت عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کے موجودہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب نے انہیں صوبے کی کمان اور اسٹریٹ موومنٹ چلانے کا ٹاسک دیا تھا لیکن وہ عوامی تحریک کو متحرک کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کارکن نے پارٹی کی موجودہ پالیسی پر گہرے دکھ اور مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت مہنگائی کمر توڑ مہنگائی ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجود ہماری اپنی پارٹی (اپوزیشن) ستو پی کر سو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمران جماعتوں نے ماضی میں جو مہنگائی مارچ کا ڈرامہ رچایا تھا افسوس کہ آج ہماری قیادت بھی اسی قسم کا غیر مؤثر اور سرد رول ادا کر رہی ہے۔
بزرگ کارکن نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے سہیل آفریدی کو اسی لیے آگے لایا تھا کہ وہ صوبے کے ہر چوک پر چھوٹی چھوٹی اسٹریٹ موومنٹس کا آغاز کریں۔
انہوں نے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ کیا خیبرپختونخواکے کسی چوک پر کوئی اسٹال لگایا گیا؟ کیا کسی گلی یا چوک پر پارٹی کے جھنڈے نظر آئے؟ خان صاحب کی طرف سے واضح اشارہ تھا کہ اسٹریٹ موومنٹ کھڑی کی جائے، لیکن سہیل آفریدی بتائیں کہ وہ موومنٹ کہاں ہے؟
یہ بھی پڑھیں : 177 ترقیاتی اسکیموں کے لیے صرف 10 ہزار روپے،پی ٹی آئی ایم پی اےسجاد بارکوال کی صوبائی بجٹ پرسخت تنقید
کارکن نے پارٹی کے دیگر عہدیداروں پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر منگل کو ہماری بہنیں اڈیالہ جیل کے باہر پہنچتی ہیں اور ہم بھی یہاں جمع ہوتے ہیں لیکن یہ سب اب محض ایک روٹین بن کر رہ گیا ہے۔
انہوں نے سنگین الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے موجودہ لوگ اور عہدیدار نہ تو ان بہنوں کے ساتھ مخلص ہیں اور نہ ہی وہ عمران خان کے ساتھ سچے ہیں۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو یاد دلایا کہ وہ نوجوان ہیں اور انہیں تحریک پیدا کرنے کے لیے یہ ذمہ داری ملی تھی لیکن اب پوری پارٹی ان سے جواب مانگ رہی ہے۔





