پشاور: خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات شفیع جان کی لائیو پریس کانفرنس کو سوشل میڈیا پر عوام نے بری طرح مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد آن لائن رسائی اور عوامی دلچسپی کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مذکورہ لائیو پریس کانفرنس کو چھ گھنٹے گزرنے کے باوجود تقریباً 302 سے 600 کے درمیان ویوز ملے اور صرف دو کمنٹس موصول ہوئے۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اسے صوبائی حکومت کے لیے ایک غیر معمولی طور پر کم اور مایوس کن آن لائن انگیجمنٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے کہ خیبر پختونخوا اس وقت دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے، سیکیورٹی ادارے قربانیاں دے رہے ہیں اور پولیس کے جوان شہید ہو رہے ہیں، لیکن صوبائی حکومت کو صرف اپنی کرسی اور جیل میں قید ایک ملزم کی پڑی ہے۔ صوبہ جل رہا ہے اور بدامنی عروج پر ہے، مگر حکومت کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔
دوسری جانب صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان سینئر صحافی طلعت حسین کے پروگرام میں “پختون ڈیجیٹل” پر لگائے گئے اپنے ہی الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں : پختون ڈیجیٹل پر ایجنڈے کا الزام، طلعت حسین کی جانب سے ثبوت مانگنے پر شفیع جان کی آئیں بائیں شائیں
پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر شفیع جان نے پختون ڈیجیٹل سمیت دیگر سوشل میڈیا چینلز کو “کالے چینلز” قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات کے اس دعوے پر میزبان طلعت حسین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال کیا:
آپ ایک ذمہ دار حکومتی عہدے پر براجمان ہیں، آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ ان کے پیچھے کوئی مخصوص ایجنڈا ہے؟
طلعت حسین کے اس چبھتے ہوئے سوال پر وزیر اطلاعات شفیع جان کوئی بھی ٹھوس ثبوت یا دستاویزی شہادت پیش نہ کر سکے اور “آئیں بائیں شائیں” کرتے رہے۔ انہوں نے موقف اختیار کرتے ہوئے جواب دیا کہ:
> ثبوت کی کیا ضرورت ہے، یہ تو ہر بندے کو پتہ ہے۔
لائیو شو میں ہونے والی اس تکرار اور بحث کی ویڈیو اس وقت سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جہاں صارفین صوبائی وزیر اطلاعات کی کارکردگی اور پروگرام میں بغیر تیاری کے آنے پر شدید سوالات اٹھا رہے ہیں۔





