قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسوقت گرما گرمی دیکھنے میں آئی جب اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور اسپیکر سردار ایاز صادق کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس کے دوران محمود خان اچکزئی نے اسپیکر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’کل آپ نے میری باتوں کا جواب دیا، آپ اسپیکر ہیں، آپ کو ہماری باتوں کا جواب نہیں دینا ہوتا، میں اخلاقیات کے دائرے میں آپ کی باتوں کا جواب دیتا ہوں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اسپیکر نے ان کی ایک تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے مختلف باتیں کیں، جبکہ انہوں نے چمن میں اپنی تقریر پشتو زبان میں کی تھی۔ اچکزئی نے کہا کہ کسی کی ڈیوٹی لگائیں، وہ پشتو سمجھتا ہوں۔’’ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ بعض معاملات میں نظام کمزور ہے اور فیصلے مقامی سطح پر پنچایتوں کے ذریعے ہونے چاہئیں۔
انہوں نے اسپیکر سے مخاطب ہو کر کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے مؤقف اور ان کے مؤقف میں فرق واضح ہے، اور ان کے مطابق بعض معاملات کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔
اجلاس کے دوران اس مکالمے نے ایوان میں کشیدگی پیدا کر دی، تاہم بعد ازاں صورتحال کو معمول پر لانے کی کوشش کی گئی۔





