اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ڈاکٹر ماہ رنگ لانگو (ماہ رنگ لانگو) کی حمایت میں شائع ہونے والے ایک حالیہ مضمون ماہ رنگ لانگو کے بطور اسرائیلی اور بھارتی پراکسیز کام کرنے کا سارا پول کھول دیا ہے۔
اس مضمون کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ ماہ رنگ لانگو پر پاکستان مخالف بیرونی طاقتوں، بالخصوص اسرائیل، کی پراکسی کے طور پر کام کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جس کا ثبوت اب اسرائیلی میڈیا نے خود فراہم کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں بھارت اور اسرائیل کی پراکسیز کے متحرک ہونے اور وہاں حالات خراب کرنے کے الزامات طویل عرصے سے سامنے آتے رہے ہیں۔
ماضی میں بھی ماہ رنگ لانگو پر غیر ملکی فنڈنگ اور پاکستان دشمن عناصر کے اشاروں پر چلنے کے سنگین الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں اور اب اسرائیلی اخبار کی جانب سے ان کی سزا پر واویلا مچانا ان شکوک و شبہات کو سچ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔
مضمون میں پاکستان کے انسدادِ دہشتگردی قوانین اور جمہوری نظام پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ اخبار نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے اقوام متحدہ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے حالانکہ اقوام متحدہ سمیت تمام ادارے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف اور بھرپور حمایت کا کئی بار اعادہ کر چکے ہیں۔
اسرائیل کی اس ہمدردی کو ریاستِ پاکستان کے خلاف ایک گہری سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔ سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل، جو خود غزہ اور دیگر علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، اچانک بلوچستان کے معاملے پر ’انسانی حقوق کا علمبردار‘کیسے بن کر سامنے آیا ہے۔
شائع مضمون کا واحد مقصد پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا اور پاکستان مخالف پراکسیز کو اخلاقی و سفارتی سپورٹ فراہم کرنا ہے۔
سکیورٹی حلقوں میں یہ رائے مضبوط ہو رہی ہے کہ ماہ رنگ لانگو کی جانب سے انسانی حقوق اور گمشدہ افراد کے نام پر چلائی جانے والی مہم دراصل اس وسیع تر پراکسی نیٹ ورک کا حصہ ہے جسے بھارت اور اسرائیل جیسے ممالک کی پشت پناہی حاصل
ہے۔
یہ مضمون اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جب بھی پاکستان میں ریاست مخالف عناصر پر قانون کا شکنجہ کستا ہے، تو ان کے عالمی آقاؤں کا تلملا اٹھنا اور ان کے حق میں لابنگ شروع کر دینا ایک طے شدہ طریقہ کار ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی سطح پراس اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور اسے ماہ رنگ لانگو کے مبینہ ’فارن ایجنڈا‘ کا حتمی ثبوت مانا جا رہا ہے۔





