نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے ایزی پیسہ بینک لمیٹڈ کے خلاف سوشل میڈیا اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مبینہ طور پر جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران بینک کی مالی حالت اور آپریشنل سرگرمیوں کے بارے میں مبالغہ آمیز دعوے کرنے والی متعدد پوسٹس کے خلاف شکایات سامنے آئی تھیں۔
اس سلسلے میں ایزی پیسہ بینک کے ہیڈ آف کنٹری لٹیگیشن، نریش کمار اروانی نے متعلقہ حکام کو باضابطہ شکایت جمع کرائی ہے، جس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی ریگولیٹڈ مالیاتی ادارے کے خلاف جان بوجھ کر جھوٹی معلومات پھیلانا پاکستان کے بینکاری نظام پر عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ ایزی پیسہ مالی طور پر مکمل مستحکم اور فعال ہے۔
اطلاعات کے مطابق این سی سی آئی اے کے ایک سینئر افسر نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (پیکا) کے تحت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے تاکہ متنازع مواد پھیلانے والوں کی نشاندہی کی جا سکے۔
شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بعض سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور کانٹینٹ کریئیٹرز نے صارفین کو رقوم نکالنے کی ترغیب دے کر غیر ضروری خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں : ایزی پیسہ کی سروسز میں تکنیکی خرابی، کمپنی کی صارفین سے معذرت اور جلد بحالی کی یقین دہانی
ایزی پیسہ بینک نے ان تمام الزامات کو فیک نیوز قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ تمام سروسز معمول کے مطابق فعال اور صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں۔ بینک کے مطابق متعلقہ عرصے میں بعض ڈیجیٹل سروسز میں محض عارضی تکنیکی اور آپریشنل رکاوٹ پیش آئی تھی جسے فوری حل کر لیا گیا تھا اور اس کا ادارے کی مالی مضبوطی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
سال 2008 میں متعارف کرایا جانے والا پاکستان کا یہ پہلا موبائل والٹ آج اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زیرِ نگرانی ملک کا ایک نمایاں ڈیجیٹل بینک ہے جس کے 6 کروڑ سے زائد رجسٹرڈ صارفین ہیں۔
ادارے نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف بینک کی سرکاری معلومات اور مستند اعلانات پر ہی اعتماد کریں۔





