پی ٹی اے کی آمدن میں تین برسوں کے دوران 62 فیصد کمی، آڈٹ رپورٹ

اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی مالی کارکردگی سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران اتھارٹی کی آمدن میں 62 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ اسی عرصے میں اخراجات میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی ٹی اے کی سالانہ آمدن مسلسل تنزلی کا شکار رہی۔ مالی سال 2022-23 میں اتھارٹی کی آمدن 94 ارب 17 کروڑ 90 لاکھ روپے تھی، تاہم اگلے مالی سال 2023-24 میں یہ کم ہو کر 50 ارب 72 کروڑ 20 لاکھ روپے رہ گئی۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں آمدن میں مزید کمی واقع ہوئی اور یہ گھٹ کر 35 ارب 34 کروڑ 90 لاکھ روپے تک پہنچ گئی، جو تین سال قبل کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

دوسری جانب پی ٹی اے کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال 2022-23 میں اتھارٹی کے مجموعی اخراجات 3 ارب 32 کروڑ روپے تھے، جو اگلے سال بڑھ کر 3 ارب 94 کروڑ روپے ہو گئے۔ مالی سال 2024-25 میں اخراجات مزید بڑھتے ہوئے 5 ارب روپے کی سطح تک جا پہنچے۔

یہ بھی پڑھیں : عالمی امن اور مسلم اُمہ کے اتحاد کیلئے فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیراعظم کی کوششیں رنگ لے آئیں، طاہر اشرفی

آڈٹ رپورٹ میں اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نشاندہی کی گئی ہے کہ تین سال کے دوران اخراجات میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ آمدن مسلسل کم ہوتی رہی۔

آڈٹ حکام نے فائیو جی اسپیکٹرم کی بروقت نیلامی نہ ہونے کو اتھارٹی کی آمدن میں نمایاں کمی کی بڑی وجوہات میں شامل قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ آمدنی کے ذرائع کو مستحکم بنانے اور جدید ٹیلی کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز سے متعلق منصوبوں پر بروقت عملدرآمد کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ ادارے کی مالی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

Scroll to Top