اسلام آباد: عراق نے پاکستانی زائرین کے لیے نئی اور سخت ویزا شرائط نافذ کر دی ہیں، جن کے تحت زیارت کے لیے عراق جانے والے افراد اور زیارت گروپ آرگنائزرز (Ziyarat Group Organizers) کو نئے قواعد و ضوابط پر مکمل عملدرآمد کا پابند بنایا گیا ہے۔
وزارتِ داخلہ اور عراقی حکام کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق فیملی ویزا پر اکیلے سفر کرنے والے کسی بھی فرد کو عراق میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے علاوہ 50 سال سے کم عمر ایسے مرد زائرین جو تنہا سفر کر رہے ہوں، ان کے عراق میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
عراقی حکومت نے نئی پالیسی کے تحت واضح کیا ہے کہ عاشورہ اور اربعین کی زیارات کے لیے ایک ہی ویزا استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جبکہ زیارات کی غرض سے جاری ہونے والا ویزا صرف 30 دن تک مؤثر رہے گا۔
حکام کے مطابق اگر کسی درخواست گزار کا ویزا مسترد ہو جائے یا عراق پہنچنے پر اسے ائیرپورٹ پر داخلے کی اجازت نہ ملے تو ادا کی گئی ویزا فیس کسی صورت واپس نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی اے کی آمدن میں تین برسوں کے دوران 62 فیصد کمی، آڈٹ رپورٹ
نئی ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان سے عراق پہنچنے والے زائرین کے پاسپورٹس عراقی امیگریشن حکام کی تحویل میں رکھے جائیں گے۔ عراقی حکومت نے زائرین کو خبردار کیا ہے کہ ویزا کی مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد عراق میں قیام کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق مقررہ مدت سے زائد قیام کرنے والوں کو بھاری جرمانوں، ملک بدری اور مستقبل میں تاحیات عراق میں داخلے پر پابندی جیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عراقی حکومت نے زائرین اور ٹور آرگنائزرز پر زور دیا ہے کہ وہ سفر سے قبل تمام شرائط کا بغور جائزہ لیں اور نئے قوانین کی مکمل پابندی کو یقینی بنائیں۔





