خلع لینے والی خاتون کو مہر کا کتنا حصہ واپس کرنا ہوگا؟ اہم فیصلہ آگیا

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے خلع، حق مہر اور ازدواجی حقوق سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ رخصتی نہ ہونے یا میاں بیوی کے اکٹھے نہ رہنے کے باوجود خاتون اپنے حق مہر کی حقدار رہے گی۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ نکاح کے بعد اگر رخصتی نہ ہو یا ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا ہو تب بھی حق مہر کا قانونی حق ختم نہیں ہوتا۔

فیصلے کے مطابق اگر نکاح نامے میں مہر کی ادائیگی کا وقت یا شرائط واضح طور پر درج نہ ہوں تو مکمل حق مہر فوری طور پر واجب الادا تصور کیا جائے گا اور شوہر اس کی ادائیگی کا پابند ہوگا۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ نکاح نامے میں درج مہر کی تفصیلات اور ادائیگی کی شرائط غیر واضح ہونے کی صورت میں قانون مکمل مہر کو مطالبے پر قابلِ ادائیگی سمجھتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ زیرِ سماعت مقدمے میں نکاح نامے میں درج 10 تولہ سونا، ایک کنال زمین اور ایک مکان فوری ادائیگی والے مہر کے زمرے میں آتے ہیں، لہٰذا ان کی فراہمی اور ادائیگی شوہر کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امن کے قیام میں پاکستان کا کردار دنیا تسلیم کر رہی ہے، اسحاق ڈار

خلع سے متعلق قانونی نکات واضح کرتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ اگر کوئی خاتون خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے حق مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرنا ہوگا۔

فیصلے کے مطابق خلع کی بنیاد پر نکاح اسی وقت مؤثر طور پر ختم تصور کیا جائے گا جب خاتون مہر کا مقررہ 25 فیصد حصہ واپس کرے۔

قانونی ماہرین کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ حق مہر، خلع اور خاندانی قوانین سے متعلق مقدمات میں ایک اہم قانونی نظیر کی حیثیت رکھتا ہے، جس سے مستقبل میں ایسے مقدمات کے فیصلوں میں رہنمائی حاصل کی جا سکے گی۔

Scroll to Top