اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے یومِ عاشور کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے قوم پر زور دیا ہے کہ وہ واقعۂ کربلا کے حقیقی پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں، جبکہ اتحاد، رواداری، صبر، برداشت اور بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ عاشور اسلامی تاریخ کا ایک فکر انگیز دن ہے، جو ایمان، صبر و استقامت، ایثار، حق پسندی اور اصلاحِ معاشرہ کے عظیم اسباق دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دن اللہ تعالیٰ کی نصرت، اہلِ ایمان کی کامیابی اور حق کی سربلندی کے لیے دی جانے والی عظیم قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے، جبکہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی قربانی نے عاشورہ کو تاریخِ اسلام میں منفرد مقام عطا کیا۔
یہ بھی پڑھیں : ملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس سخت سیکیورٹی میں اختتام پذیر
وزیراعظم نے کہا کہ واقعۂ کربلا اس بات کا درس دیتا ہے کہ ایک مہذب اور باوقار معاشرے کی بنیاد اصولوں اور اقدار کی پاسداری پر قائم ہوتی ہے۔
حضرت امام حسینؓ نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ حق، صداقت، عدل، انصاف اور انسانی عظمت کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دی جا سکتی ہے، لیکن ظلم، جبر اور باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ واقعۂ کربلا اصلاحِ امت، احیائے سنتِ نبوی ﷺ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عظیم مقصد کی علامت ہے، جو اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ معاشرے میں عدل و انصاف، صبر، برداشت اور ذمہ داری جیسے اوصاف کو فروغ دیا جائے، جبکہ اختلافات، نفرت اور انتشار کے بجائے باہمی احترام، رواداری اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنایا جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے علماء کرام، مشائخ عظام، ذاکرین، میڈیا اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ یومِ عاشور کے حقیقی پیغام کو عام کریں، بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دیں اور اشتعال انگیزی و نفرت کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے قوم پر زور دیا کہ حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی قربانیوں کی روشنی میں حق و انصاف سے وابستگی کو مزید مضبوط بنایا جائے، معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور ایک مضبوط، متحد اور پرامن پاکستان کی تعمیر کے لیے بھرپور کردار ادا کیا جائے۔ وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پوری امتِ مسلمہ کو اتحاد، اتفاق، امن اور خیر و برکت سے نوازے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی صدر کے ہیلی کاپٹر کو دورانِ پرواز حادثہ، ہنگامی لینڈنگ
دوسری جانب ایوانِ صدر سے جاری پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ یومِ عاشور اسلامی تاریخ کا عظیم اور بامعنی دن ہے، جو صبر، استقامت، ایثار، حق گوئی اور اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ عاشورہ کئی اہم تاریخی واقعات کی یاد دلاتا ہے، تاہم تاریخِ اسلام میں اس کی سب سے نمایاں نسبت حضرت امام حسینؓ، اہلِ بیت اطہارؓ اور ان کے وفادار ساتھیوں کی اس عظیم قربانی سے ہے جو 61 ہجری میں میدانِ کربلا میں پیش آئی۔
صدر مملکت نے کہا کہ واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک دائمی پیغام اور زندہ درسگاہ ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے اپنے کردار سے یہ واضح کیا کہ حق، عدل، دیانت اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دی جا سکتی ہے، مگر باطل، ظلم اور ناانصافی کے سامنے سر جھکانا قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج قوم کو عہد کرنا چاہیے کہ حضرت امام حسینؓ کی سیرت سے حق پسندی، اخلاقی جرات، صبر، تحمل، ایثار اور خدمتِ خلق کے اوصاف حاصل کرتے ہوئے انہیں اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔
صدر آصف علی زرداری نے تمام پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ عاشورہ کے ایام میں امن، رواداری، بین المسالک احترام اور بھائی چارے کو فروغ دیں، افواہوں اور اشتعال انگیز رویوں سے اجتناب کریں اور قومی وحدت و یکجہتی کے استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں واقعۂ کربلا کے حقیقی پیغام کو سمجھنے، اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور اپنی زندگیوں کو حق، عدل، صبر اور تقویٰ کے اصولوں کے مطابق استوار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔





