پیٹرول سستا ہونے کی امیدیں دم توڑ گئیں، حکومت نے قیمت برقرار رکھی، مگر مٹی کے تیل کی قیمت میں زبردست کمی کر دی

پیٹرول سستا ہونے کی امیدیں دم توڑ گئیں، حکومت نے قیمت برقرار رکھی، مگر مٹی کے تیل کی قیمت میں زبردست کمی کر دی

وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 6 روپے 4 پیسے فی لیٹر کمی کر دی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مٹی کے تیل کی قیمت میں 6 روپے 4 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کے فیصلے نے عوام کو مایوس کر دیا، تاہم مٹی کے تیل کی قیمت میں کمی سے اس کے صارفین کو جزوی ریلیف ملے گا۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعلامیے کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 6 روپے 4 پیسے فی لیٹر کمی کے بعد اس کی نئی قیمت 227 روپے 5 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس کے برعکس پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور انہیں موجودہ سطح پر برقرار رکھا گیا ہے۔

جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب قیمتوں کے جائزے کے بعد حکومت نے اعلان کیا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی نہیں کی جائے گی۔ اس فیصلے سے قبل عوام اور معاشی ماہرین کو توقع تھی کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی سے پہلے والی سطح پر واپس آنے کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے گی۔

حکومت کے اس غیر متوقع فیصلے کے بعد مختلف حلقوں میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کے فیصلے میں پیٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز کی جانب سے آنے والا دباؤ بھی ایک اہم عنصر تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیلرز نے حکومت کو مؤقف دیا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باعث ان کے موجودہ ذخائر کی مالیت کم ہو رہی ہے، جس سے انہیں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈیلرز کی جانب سے یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ اگر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کی گئی تو ان کے لیے کاروبار جاری رکھنا مزید مشکل ہو جائے گا، جس کے بعد حکومت نے قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

دوسری جانب توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ بالآخر صارفین تک پہنچنا چاہیے، تاہم پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں عالمی قیمتوں کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم لیوی، ٹیکسز، درآمدی لاگت، زرِ مبادلہ کی شرح اور دیگر مالیاتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

حکومت کے حالیہ فیصلے کے بعد عوام کی نظریں اب آئندہ پندرہ روزہ جائزے پر مرکوز ہیں، جہاں عالمی مارکیٹ کی صورتحال اور ملکی معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔

Scroll to Top