وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد وفاقی وزیر پیٹرولیم کے بیان نے شہریوں کی توجہ حاصل کر لی ہے، جبکہ حکومت کے مؤقف کو عوامی سطح پر مثبت ردعمل بھی مل رہا ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت نہ تو کسی ایک شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت بین الاقوامی ذمہ داریوں کے دائرے میں رہتے ہوئے صارفین تک ہر ممکن ریلیف پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی کا بنیادی مقصد عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے توازن قائم رکھنا ہے تاکہ کسی بھی طبقے پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔
وفاقی وزیر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے دور میں اب تک ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 200 روپے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 155 روپے فی لیٹر کمی کی جا چکی ہے، جو حکومت کے ریلیف اقدامات کا تسلسل ہے۔
علی پرویز ملک نے مزید بتایا کہ حالیہ ہفتے کے دوران عالمی منڈی میں پیٹرول کی پلیٹس قیمت 98.35 سے 91.68 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 109.09 سے 104.79 ڈالر فی بیرل کے درمیان ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومت کی جانب سے قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا معاشی توازن اور صارفین کے مفاد کے لیے اہم اقدام ہے۔





