عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار ہے، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل مزید ساڑھے چار فیصد تک سستا ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ گراوٹ کے بعد تیل کی قیمتیں ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی سے قبل کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں، جسے عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت کم ہو کر 68 ڈالر 65 سینٹ فی بیرل رہ گئی ہے، جبکہ برینٹ کروڈ آئل 71 ڈالر 52 سینٹ فی بیرل پر آ گیا ہے۔ اسی طرح ابوظبی بینچ مارک مربان کروڈ کی قیمت بھی کم ہو کر 67 ڈالر 50 سینٹ فی بیرل ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق رواں سال ایران پر حملوں سے قبل بھی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً اسی سطح پر تھیں۔ اس وقت برینٹ کروڈ تقریباً 70 ڈالر 89 سینٹ فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 66 سے 70 ڈالر فی بیرل کے درمیان ٹریڈ کر رہا تھا۔
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ 26 جون کو مسلسل کمی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 71 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ دبئی خام تیل کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی بنیادی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نسبتاً کمی، تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات میں کمی اور سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی شامل ہیں۔ ان عوامل نے عالمی منڈی میں قیمتوں پر دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہتی ہیں تو اس کے مثبت اثرات تیل درآمد کرنے والے ممالک، بالخصوص پاکستان جیسے ممالک، کی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں آئندہ جائزوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ عالمی مارکیٹ، حکومتی پالیسی اور مقامی معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔





