شہزاد نوید
سوات: سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین محمود خان نے سوات اور مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے عوام پر اضافی معاشی بوجھ قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں محمود خان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مزید ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو پہلے سے مشکلات کا شکار عوام کے لیے مزید پریشانی کا باعث بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن کو حاصل آئینی اور قانونی خصوصی حیثیت کو نظر انداز کرنا یہاں کے عوام کے حقوق کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔
ان کے مطابق حکومت کو عوامی مسائل کا احساس نہیں، اور نئے ٹیکسوں سے مہنگائی اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران اور امریکا نے ایک دوسرے پر حملے روکنے پر اتفاق کر لیا، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے عوام پہلے ہی دہشت گردی اور قدرتی آفات کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر چکے ہیں، ایسے حالات میں ریلیف دینے کے بجائے ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا درست اقدام نہیں۔
محمود خان نے سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے منتخب نمائندوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں عوامی مسائل پر آواز اٹھانی چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کے آئینی، قانونی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرے گی اور ٹیکس کے فیصلے کی مخالفت جاری رکھے گی۔





