بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو بھرپور جواب دیا جائیگا، عطا تارڑ

بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو بھرپور جواب دیا جائیگا، عطا تارڑ

وفاقی وزیر عطا تارڑ اور وفاقی وزیر مصدق ملک نے واضح کیا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کو قبول نہیں کریگااور اگر بھارت نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو جواب دیا جائیگا۔

جناح کنونشن سینٹر میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کا بنیادی ستون ہے اور دریائے سندھ اس کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ سندھ طاس معاہدے پر مخلصانہ عملدرآمد کیا ہے اور پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

عطا تارڑ کے مطابق 1960 کا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک منفرد اور اہم حیثیت رکھتا ہے، جس کے تحت طے شدہ اصولوں کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی روکنے یا اس کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش پر پاکستان مناسب اور مؤثر جواب دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس معاملے کو عالمی بینک اور دیگر متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر اٹھانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور اپنے پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر اقدامات جاری رکھے گا۔

اسی موقع پر وفاقی وزیر مصدق ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے پانی زندگی کا مسئلہ ہے اور کسی بھی ملک کو علاقائی یا عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین بین الاقوامی معاہدوں میں سے ایک ہے، جس کی یکطرفہ خلاف ورزی پورے عالمی نظام کے لیے خطرناک مثال بن سکتی ہے۔

مصدق ملک نے کہا کہ اصل مسئلہ پانی کی کمی یا زیادتی نہیں بلکہ اس کے بہاؤ میں یکطرفہ مداخلت ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کر چکا ہے، جو اس حوالے سے پاکستان کے حق میں واضح فیصلے دے چکی ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کے حصے کا پانی روک سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کے خطے اور عالمی امن پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Scroll to Top