بجلی کی تقسیم، بلنگ اور لوڈشیڈنگ سے واپڈا کا کوئی تعلق نہیں، چیئرمین واپڈا

چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کے تناظر میں ایک اہم وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے بجلی کی ترسیل، تقسیم، بلنگ یا ڈسٹری بیوشن انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال میں واپڈا کا کوئی کردار نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ واپڈا کی تنظیمِ نو کا عمل 1997 میں شروع ہو کر 2007 میں مکمل ہوا تھاجس کے تحت تمام ریجنل الیکٹرک سپلائی بورڈز کو ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (Discos) میں تبدیل کر کے پاور ڈویژن کے ماتحت کر دیا گیا تھا، جبکہ این ٹی ڈی سی (جو اب این جی سی کے نام سے کام کر رہا ہے) بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔ اس تنظیمِ نو کے بعد واپڈا کو وزارتِ آبی وسائل کے تحت منتقل کر دیا گیا اور 2007 سے ادارے کی ذمہ داریاں صرف ڈیموں کی تعمیر، ہائیڈرو پاور منصوبوں، نہروں اور آبی وسائل کی اسٹریٹجک مینجمنٹ تک محدود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے نتائج بھاری ہوں گے، بھارت جنگ کے بیج بونے سے گریز کرے: اسحاق ڈار

چیئرمین واپڈا کے مطابق ادارے کے زیرِ انتظام ہائیڈرو پاور پلانٹس سے پیدا ہونے والی بجلی این جی سی کو بلک (تھوک) میں فراہم کر دی جاتی ہے جس کے بعد نیشنل گرڈ اور بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام میں واپڈا کا کوئی کردار نہیں رہتا۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس کے باوجود گزشتہ دو دہائیوں سے واپڈا کو لوڈشیڈنگ، بجلی کے بلوں، میٹرز، ٹرانسفارمرز، سولر و نیٹ میٹرنگ اور ڈسٹری بیوشن لائنوں جیسے مسائل پر شکایات اور الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حالانکہ ان معاملات سے واپڈا کا کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے صارفین سے اپیل کی کہ وہ بجلی سے متعلق شکایات براہِ راست متعلقہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں تک پہنچائیں تاکہ مسائل بروقت حل ہوں، کیونکہ واپڈا سے رابطہ کرنے کی صورت میں صرف غیر ضروری تاخیر ہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Scroll to Top