پیٹرول کی قیمت سے متعلق وزیرپٹرولیم پرویز ملک کا اہم بیان

پیٹرول کی قیمت سے متعلق وزیرپٹرولیم پرویز ملک کا اہم بیان

وفاقی وزیر پٹرولیم پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں شامل مارجن جیسے ہی معمول پر آئے گاحکومت اس کا فائدہ براہِ راست عوام کو منتقل کرے گی تاہم موجودہ معاشی حالات میں ریاست کے مالی مفادات کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔

اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ پٹرولیم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مالی حالات بھارت جیسے نہیں اس لیے حکومت کے پاس پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بوجھ خود برداشت کرنے کی گنجائش محدود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ریفائنری سیکٹر کو بھی ابھی مکمل طور پر معمول پر آنے میں کچھ وقت درکار ہےجس کے بعد قیمتوں میں کمی کی صورت میں عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

پرویز ملک نے عالمی منڈی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ عالمی بحران کے دوران متحدہ عرب امارات نے ڈیزل کی قیمت تقریباً دگنی کر دی تھی جبکہ بھارت نے اپنے وسیع مالی وسائل اور ٹیکسوں میں کمی کے ذریعے اس کے اثرات کو خود برداشت کیا۔

ان کے مطابق بھارت کے پاس تقریباً 600 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر موجود تھے جبکہ پاکستان کے پاس اس نوعیت کے مالی بفرز دستیاب نہیں تھے۔

انہوں نے ٹیکس اہداف کے حوالے سے بتایا کہ حکومت کو رواں مالی سال کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1500 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف حاصل کرنا ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے یہ ہدف بڑھا کر 1700 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی حالات میں حکومت کو زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : صارفین کیلئے خوشخبری ،حکومت کا ایل پی جی کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان

انہوں نے سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی طرح سعودی عرب سے سستا تیل لا کر فروخت نہیں کر سکتے، اس لیے موجودہ حکومت کو دستیاب وسائل اور ملکی معاشی حقائق کے مطابق ہی پالیسی اختیار کرنا پڑتی ہے۔

Scroll to Top