خیبر پختونخوا میں دریائے سندھ اور دریائے کابل میں نہانے کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعات میں ایک 12 سالہ طالب علم سمیت تین افراد ڈوب گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا میں دریائے سندھ اور دریائے کابل میں نہاتے ہوئے مختلف واقعات میں ایک 12 سالہ طالب علم سمیت تین افراد ڈوب گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعات دریاؤں میں نہانے پر پابندی اور دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود پیش آئے، جس کے تحت شہریوں کو بارہا خبردار کیا جاتا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سور پل کے مقام پر 12 سالہ عمر، جو نوشہرہ کلاں کا رہائشی تھا، دریائے سندھ میں نہاتے ہوئے گہرے پانی میں جا گرا اور ڈوب گیا۔ اسی طرح نظام پور کے علاقے ماما خیل میں ایک نوجوان بھی دریا کے تیز بہاؤ کی نذر ہو کر جان کی بازی ہار گیا۔
مزید برآں اکبرپورہ کے علاقے گھڑی مومن میں شعیب اللہ نامی نوجوان بھی نہاتے ہوئے دریا کی تیز لہروں میں بہہ گیا اور لاپتہ ہو گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق غوطہ خور ٹیمیں ڈوبنے والے افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن میں مصروف ہیں، تاہم دریائے سندھ میں پانی کے شدید بہاؤ کے باعث مشکلات کا سامنا ہے اور تاحال لاشیں برآمد نہیں کی جا سکیں۔
حکام نے ایک بار پھر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دریاؤں میں نہانے سے گریز کریں، کیونکہ پابندی کے باوجود خلاف ورزی جان لیوا حادثات کا سبب بن رہی ہے۔





