خیبرپختونخوا سمیت ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کاخدشہ

خیبرپختونخوا سمیت ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کاخدشہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے یکم سے 4 جولائی تک ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

موجودہ مانیٹرنگ کے مطابق مون سون سسٹم اور مغربی ہواؤں کے زیر اثر خیبر پختونخوا، پنجاب، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں فلیش فلڈ کا شدید خطرہ ہے۔

پہاڑی ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مقامی آبادیوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

خیبر پختونخوا کے پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، صوابی، کوہاٹ، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور سوات سمیت دیگر بالائی اضلاع کے ندی نالے اس موسمی سسٹم سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کالام: سیف اللہ جھیل میں سیاحوں کی کشتی الٹ گئی، ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق، 3 لاپتہ

پنجاب کے راولپنڈی، اٹک، میانوالی، خوشاب، سرگودھا، فیصل آباد، سیالکوٹ، لاہور اور گوجرانوالہ سمیت متعدد اضلاع کے نشیبی علاقوں اور برساتی نالوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

بلوچستان کے اضلاع ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، بارکھان، سبی، کوہلو اور لورالائی میں بھی مقامی سطح پر اچانک سیلاب آسکتا ہے، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں طغیانی کا خطرہ برقرار ہے۔

این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ شہری علاقوں میں شدید بارش کے دوران نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں، جس سے ٹریفک کی روانی کے ساتھ ساتھ سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

صوبائی اور مقامی انتظامیہ کو پیشگی حفاظتی اقدامات، نکاسی آب کے مؤثر انتظامات، ہنگامی مشینری کی تیاری اور دریاؤں کے بہاؤ سمیت گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ نشیبی علاقوں اور دریا کے کنارے غیر ضروری نقل و حرکت سے مکمل گریز کریں اور سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موسمی صورتحال اور حفاظتی تدابیر سے متعلق مستند معلومات کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ اور متعلقہ اداروں کے اعلانات سے رہنمائی حاصل کریں۔

Scroll to Top