نانگا پربت کی چوٹی پر سبز ہلالی پرچم، شگر کے دو نوجوانوں کا بڑا کارنامہ

شگر: گلگت بلتستان کے ضلع شگر سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان کوہ پیما دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت سر کرنے میں کامیاب ہو گئے، جہاں انہوں نے قومی پرچم لہرا کر پاکستان کا نام روشن کر دیا۔

شگر کے گاؤں ارندو باشہ کے رہائشی محبوب علی اور عباس علی نے 14 Peaks Expeditions کی ٹیم کے ہمراہ 8 ہزار 126 میٹر بلند نانگا پربت کی چوٹی کامیابی سے سر کی۔

چوٹی پر پہنچنے کے بعد دونوں کوہ پیماؤں نے قومی پرچم لہرایا اور اس تاریخی کامیابی کو پاکستان اور گلگت بلتستان کے نام کر دیا۔

نانگا پربت، جسے دنیا بھر میں “قاتل پہاڑ” (Killer Mountain) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، دنیا کی مشکل ترین اور خطرناک چوٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔ کوہ پیمائی کی دنیا میں اس چوٹی کو سر کرنا غیر معمولی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔

دونوں نوجوانوں کی کامیابی کی خبر سامنے آنے کے بعد شگر، گلگت بلتستان اور ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مختلف سماجی، سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے محبوب علی اور عباس علی کو مبارکباد پیش کی جا رہی ہے اور ان کی جرات و عزم کو سراہا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستانی اسپنر ابرار احمد نے بھارتی اسپنر کو پیچھے چھوڑ دیا

اہلِ علاقہ نے دونوں کوہ پیماؤں کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ بحفاظت بیس کیمپ واپس پہنچیں گے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ محبوب علی اور عباس علی کی یہ کامیابی گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے لیے ایک نئی تحریک اور حوصلے کی علامت ثابت ہوگی۔

Scroll to Top