ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے بعد پاکستانی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قدر میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں اس کی قیمت میں تقریباً چار گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بین الاقوامی پابندیوں اور معاشی دباؤ کے باوجود ایرانی ریال نے پاکستان کی اوپن کرنسی مارکیٹ میں غیرمعمولی مضبوطی دکھائی ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران کراچی، لاہور اور سرحدی علاقوں کی ایکسچینج مارکیٹوں میں ایرانی ریال کی طلب اور قدر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستانی روپے کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں حالیہ عرصے کے دوران تقریباً چار گنا اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد کرنسی مارکیٹ میں اس غیرمعمولی رجحان پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے بعد پاکستانی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی خرید و فروخت میں بھی نمایاں تیزی آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق معاہدے کے صرف چار روز کے دوران ملک بھر میں تقریباً دو کھرب ایرانی ریال کی خریداری کی گئی۔
پاکستان ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے پہلے ہی روز تقریباً 40 ارب ایرانی ریال کی خریداری ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد مارکیٹ میں ریال کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
کرنسی مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں سیاسی اور معاشی استحکام برقرار رہا تو ایرانی ریال کی طلب اور قدر میں مزید بہتری آنے کا امکان موجود ہے، تاہم اس کا انحصار آئندہ علاقائی اور بین الاقوامی معاشی صورتحال پر ہوگا۔





