نادرا کا ڈیٹا ہیک ہونے کے دعوؤں کی سختی سے تردید، سوشل میڈیا رپورٹس بے بنیاد قرار

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان پوسٹس کا سخت نوٹس لیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نادرا کا سسٹم ہیک ہو چکا ہے اور شہریوں کا شناختی کارڈ ڈیٹا، تصاویر اور بائیومیٹرک معلومات ڈارک ویب پر فروخت کے لیے دستیاب ہیں۔

نادرا نے ان تمام دعوؤں کو جھوٹا اور سراسر بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔

نادرا حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پوسٹ میں خود بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ڈیٹا چوری کا یہ دعویٰ غیر تصدیق شدہ ہے۔ اس طرح کا بالکل یہی دعویٰ سال 2024 میں بھی سامنے آیا تھا جس پر نادرا نے نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (NCERT) اور نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن سیکیورٹی بورڈ (NTISB) کے ساتھ مل کر ایک جامع تکنیکی تحقیقات کی تھیں۔

نادرا کے مطابق تحقیقات کے دوران نادرا کے سسٹمز کی خلاف ورزی یا شہریوں کے ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے نمونے (سیمپل تصاویر) نادرا کے ڈیٹا اسٹوریج فارمیٹ سے مطابقت نہیں رکھتے اور یہ تصاویر ماضی میں بھی کئی بار مختلف پلیٹ فارمز پر سامنے آ چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : شناختی کارڈ پر گھر کا پتہ تبدیل کرانے کا آسان طریقہ،نادرا نے طریقہ بتا دیا

ترجمان نادرا نے واضح کیا ہے کہ سسٹم میں کسی قسم کی ہیکنگ یا ڈیٹا چوری کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور نہ ہی شہریوں کا ڈیٹا خطرے میں ہے۔ نادرا ملکی سائبر سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر ایسے گمراہ کن دعوؤں کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور شہریوں کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہے۔

Scroll to Top