طاہر رشید
کوہاٹ: ضلع میں دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود خوشحال گڑھ اور شکردرہ کے علاقوں میں مبینہ طور پر غیر قانونی سونا نکالنے (گولڈ مائننگ) کی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پابندی کے باوجود غیر قانونی مائننگ کا سلسلہ کھلے عام جاری ہے، جس سے ضلعی انتظامیہ کی کارروائی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے، تاہم اس پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث مبینہ غیر قانونی گولڈ مائننگ رک نہیں سکی۔
چند روز قبل کوہاٹ کے ضلعی پولیس سربراہ (ڈی پی او) کا ایک آڈیو پیغام بھی سوشل میڈیا پر سامنے آیا، جس میں مبینہ طور پر کہا گیا کہ غیر قانونی گولڈ مائننگ کو روکنے میں پولیس کا اب کوئی کردار نہیں ہے۔
مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ اس غیر قانونی سرگرمی میں ضلعی انتظامیہ یا اس کے بعض ذمہ دار افسران اور بعض پولیس اہلکار ملوث ہیں، جبکہ غیر قانونی طور پر سونا نکالنے والوں کو مبینہ طور پر سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہے۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔
ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ خوشحال گڑھ اور شکردرہ کے علاقوں سے ہر دوسرے روز ایک یا دو لاشیں ملنے کی اطلاعات سامنے آتی ہیں، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق کسی نہ کسی انداز میں غیر قانونی گولڈ مائننگ سے ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے سرکاری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : باجوڑ: ناواگئی کی 90 فیصد سے زائد اسٹریٹ لائٹس غیر فعال، رپورٹ جاری
مقامی افراد کے مطابق علاقے میں دو مسلح گروہوں کے درمیان سونے کی مبینہ کانوں پر قبضے کے لیے کشیدگی بھی پائی جاتی ہے۔
ان کے بقول دونوں گروہوں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ اور جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں، جن میں متعدد افراد زخمی جبکہ بعض ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔
مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے غیر قانونی گولڈ مائننگ کے خلاف مؤثر کارروائی کریں، واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔





