وزیراعظم پاکستان کے کوارڈینیٹر برائے اطلاعات و امورِ خیبر پختونخوا، اختیار ولی خان نے صوبے میں جاری غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کو فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایت جاری کر دی۔
جاری مراسلے کے مطابق خیبر پختونخوا میں بجلی کی فراہمی کی صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے جبکہ شدید گرمی میں عوام گھنٹوں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس صورتحال کے باعث معمولاتِ زندگی، تجارتی و صنعتی سرگرمیاں متاثر ہونے کے ساتھ نوشہرہ، مردان، صوابی، چارسدہ، پشاور اور دیگر اضلاع میں عوامی بے چینی بھی بڑھ رہی ہے۔
مراسلے میں پیسکو کو ہدایت کی گئی ہے کہ بجلی چوری کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے، غیر قانونی کنڈوں کا خاتمہ کیا جائے، بجلی چوری میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں اور لائن لاسز کم کرنے کے لیے مؤثر انتظامی و تکنیکی اصلاحات نافذ کی جائیں۔
مزید ہدایت کی گئی ہے کہ بڑے سرکاری، نیم سرکاری، نجی اور انفرادی نادہندگان سے بقایا جات کی فوری وصولی یقینی بنائی جائے، اس مقصد کے لیے ڈپٹی کمشنرز، ضلعی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں عمل میں لائی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی کی تقسیم، بلنگ اور لوڈشیڈنگ سے واپڈا کا کوئی تعلق نہیں، چیئرمین واپڈا
پیسکو کو تین روز کے اندر جامع ایکشن پلان اور تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے، جس میں فیڈر وار بجلی کی طلب و رسد، سپلائی گیپ، لائن لاسز، بجلی چوری کے خلاف کارروائیوں، نادہندگان کی تفصیلات، واجبات کی وصولی کا شیڈول اور شفاف لوڈ مینجمنٹ پلان شامل ہوگا۔
اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ ایماندار صارفین کو بجلی چوری، ناقص انتظامی امور اور واجبات کی عدم وصولی کی سزا نہیں دی جا سکتی، انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کی منصفانہ فراہمی، بجلی چوری کے خاتمے اور توانائی کے شعبے میں شفافیت کے لیے عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔
اختیار ولی خان نے مزید کہا کہ یہ معاملہ انتہائی ہنگامی نوعیت کا ہے اور وزیراعظم آفس روزانہ کی بنیاد پر اس کی نگرانی کر رہا ہے جبکہ پیسکو کو عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے مقررہ مدت میں قابلِ عمل منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔





