تہران: ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع امام خمینی حسینیہ سنٹر میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے آخری دیدار کا سلسلہ جاری ہے، جہاں دنیا بھر سے آنے والے سرکاری وفود، مذہبی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد مرحوم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حسینیہ میں سوگ کی فضا برقرار ہے اور تعزیتی تقریبات میں غیر معمولی شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کے ساتھ ان کے خاندان کے چار دیگر افراد کے تابوت بھی رکھے گئے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں اعلیٰ سطح کا سرکاری وفد شریک ہے، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سمیت متعدد اہم پاکستانی شخصیات شامل ہیں۔
اس تعزیتی تقریب میں شرکت کرنے والا یہ کسی بھی ملک کا سب سے بڑا اور اعلیٰ سطح کا سرکاری وفد ہے، جو ایران کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات اور اظہارِ یکجہتی کی عکاسی کرتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق 28 فروری کو ہونے والے حملے میں ان کی اہلیہ، داماد، ایک بہو اور دو سالہ نواسی بھی جاں بحق ہوئے تھے، جنہیں بھی مشترکہ طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : تہران ،وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کی رسومات میں شرکت
دوسری جانب ایرانی حکومت نے تعزیتی تقریبات کا باضابطہ شیڈول بھی جاری کر دیا ہے۔ اعلان کے مطابق 4 جولائی سے تہران میں چھ روزہ سوگ اور مختلف تعزیتی تقریبات کا آغاز ہوگا، جبکہ 6 جولائی کو دارالحکومت کی مرکزی شاہراہوں پر نمازِ جنازہ اور مرکزی جنازہ جلوس نکالا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق 7 جولائی کو جسدِ خاکی کو تہران سے مقدس شہر قم منتقل کیا جائے گا، جبکہ 8 جولائی کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں خصوصی تعزیتی تقریبات منعقد ہوں گی۔ بعد ازاں 9 جولائی کو جسدِ خاکی دوبارہ ایران لایا جائے گا، جہاں مشہد میں تدفین کی جائے گی۔
ایرانی حکام کے مطابق دنیا کے تقریباً 90 ممالک کے سربراہان، سرکاری نمائندے اور مذہبی شخصیات ان تقریبات میں شرکت کریں گے، جس کے پیش نظر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ ان تقریبات کو عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔





