کابل میں اسکول کے قریب دھماکا، 42 بچے زخمی

افغان دارالحکومت کابل کے مغربی علاقے دشتِ برچی میں ایک اسکول میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 42 بچے زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے واقعے کی تصدیق کردی ہے، تاہم دھماکے کی نوعیت اور اس کے محرکات کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق پیر کو پیش آنے والے واقعے میں زخمی ہونے والے بچوں کی عمریں 9 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔ افغانستان میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینٹ نے بھی دشتِ برچی میں اسکول کے قریب ہونے والے واقعے کی مذمت کی ہے۔

مشن کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دھماکا کسی حملے کا نتیجہ تھا یا جنگ کے دوران باقی رہ جانے والے دھماکا خیز مواد پھٹنے سے حادثہ پیش آیا، کیونکہ واقعے کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

دوسری جانب افغانستان کے ڈائریکٹوریٹ آف مائن ایکشن کوآرڈینیشن کی جانب سے جائے وقوعہ کے جائزے کے بعد بتایا گیا ہے کہ پیر کی دوپہر اسکول میں ایک دستی بم پھٹا۔ یہ معلومات کابل پولیس کی جانب سے فراہم کی گئی ابتدائی تفصیلات سے بھی مطابقت رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی پروازوں پر پابندی میں 24 ستمبر تک توسیع

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگ کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں جنگی دھماکا خیز مواد اب بھی موجود ہے، جبکہ ایسے واقعات سے ہونے والی ہلاکتوں کے اعتبار سے افغانستان دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہے۔

دھماکے کے بعد نجی پرائمری اسکول نے اپنے فیس بک پیج پر پیغام جاری کرتے ہوئے لوگوں سے زخمی بچوں کے لیے دعا کی اپیل کی، تاہم واقعے سے متعلق مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

اسکول کے قریب رہنے والی 38 سالہ مقامی خاتون نے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکا اس وقت ہوا جب بچوں کو چھٹی دی جارہی تھی۔ سکیورٹی خدشات کے باعث نام ظاہر نہ کرنے والی خاتون کے مطابق زخمی ہونے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ وہ انہیں گن بھی نہیں سکیں۔

واضح رہے کہ کابل کا علاقہ دشتِ برچی ماضی میں بھی متعدد ہلاکت خیز حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ 2021 میں لڑکیوں کے ایک اسکول کے باہر کار بم دھماکے میں 90 افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔

Scroll to Top