افغانستان کے صوبہ قندھار کے ضلع دامن کے گاؤں منڈیسار کے رہائشی صاف پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کررہے ہیں، جہاں زیر زمین پانی کی سطح میں 20 سے 40 میٹر تک کمی واقع ہونے سے مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی اور زراعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
افغان میڈیا ادارے ٹولو نیوز کے مطابق پانی کی سطح میں مسلسل کمی کے باعث گاؤں کے مکینوں کو پینے کے صاف پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ زرعی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں۔ افغانستان کے جنوبی علاقوں میں پانی کی قلت اور آبپاشی کے مسائل پہلے بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
مقامی عمائدین کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی اب صرف زراعت تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے گھریلو ضروریات اور عام زندگی کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔ گاؤں کے بزرگوں جمعہ گل اور محمد صادق نے حکام سے فوری توجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی سب سے فوری ضرورت صاف پینے کے پانی کی فراہمی ہے۔
مقامی افراد کے مطابق زیر زمین پانی کی سطح میں نمایاں کمی کے باعث پانی کے حصول کے لیے مزید گہرائی تک جانا پڑ رہا ہے، جس سے محدود وسائل رکھنے والے خاندانوں کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ پانی کی کمی کا براہ راست اثر کھیتی باڑی پر بھی پڑ رہا ہے اور زرعی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
رہائشیوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور پانی کے نئے ذرائع تلاش کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں الیکٹرک بائیکس اور اسکوٹرز کی نئی رینج متعارف
افغانستان میں پانی کے بہتر انتظام اور ذخائر میں اضافے کے لیے مختلف علاقوں میں چھوٹے اور بڑے ڈیموں پر کام بھی جاری ہے، جبکہ قندھار کے بعض اضلاع میں چھوٹے آبی ذخائر کی تعمیر کے منصوبے شروع کیے جاچکے ہیں۔
منڈیسار کے رہائشیوں کا دوسرا بڑا مطالبہ علاقے کی شدید متاثرہ سڑکوں کی مرمت ہے۔ مقامی عمائدین کے مطابق خستہ حال سڑکوں کے باعث آمدورفت میں مشکلات بڑھ گئی ہیں اور علاقے کے لوگوں کو روزمرہ ضروریات کے لیے بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جمعہ گل اور محمد صادق سمیت مقامی عمائدین نے حکام پر زور دیا کہ پانی اور سڑکوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ علاقے کے لوگوں کو بنیادی سہولیات میسر آسکیں۔
پانی کی قلت افغانستان کے مختلف علاقوں میں ایک اہم مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ ماہرین اور حکام اس سے قبل بھی خبردار کرچکے ہیں کہ پانی کے ذخائر اور زیر زمین پانی کے بہتر انتظام کے لیے مزید سرمایہ کاری نہ کی گئی تو زرعی شعبہ اور دیگر اہم شعبے مزید مشکلات سے دوچار ہوسکتے ہیں۔





