اسلام آباد: سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے جیل حکام کو دی گئی دو روزہ مہلت آج ختم ہو رہی ہے، جبکہ عمران خان کی قانونی ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد میں مزید تاخیر توہینِ عدالت کے زمرے میں آئے گی۔
عمران خان کے وکیل خالد یوسف چوہدری کے مطابق ہسپتال منتقلی سے متعلق تمام قانونی تقاضے مکمل کرلیے گئے ہیں۔ عدالتی حکم کی مصدقہ نقل کے ساتھ باضابطہ درخواست جیل حکام کو ارسال کردی گئی ہے، جبکہ عدالتی طریقہ کار کے مطابق عدالت کی جانب سے بھی حکم جیل حکام کو بھجوا دیا گیا ہے۔
وکیل نے بتایا کہ اپیل کنندہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بھی عدالتی حکم پر عملدرآمد کا باضابطہ مطالبہ کیا ہے، اس لیے جیل حکام سپریم کورٹ کے احکامات پر بلا تاخیر عملدرآمد کے پابند ہیں۔ ان کے مطابق حکومت عمران خان کو مقررہ دو روز کے اندر ہسپتال منتقل کرنے کی پابند ہے اور فیصلے پر عملدرآمد میں مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کو شفاء ہسپتال منتقلی کے تمام قانونی لوازمات پورے کر دیے گئے ہیں اور اس حوالے سے جیل حکام کو باضابطہ طور پر درخواست بمع عدالتی حکم بھی ارسال کر دی ہے۔
اپیلانٹ ڈاکٹر عظمی خان کی جانب سے عدالتی حکم نامے پر عمل در آمد کے لئے باضابطہ مطالبہ کیا ہے اور جیل… pic.twitter.com/imoPLAiJiU
— Khalid Yousaf Chaudry (@KhalidYChaudry) August 19, 2026
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دو روز قبل عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، جہاں انہیں 16 ستمبر کو ہونے والی آئندہ سماعت تک زیرِ علاج رہنا ہے۔
یہ حکم عمران خان، ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان، وکیل عذیر بھنڈاری اور پی ٹی آئی رہنما مشال یوسفزئی کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد جاری کیا گیا۔ درخواستوں میں عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے ساتھ اہل خانہ سے ملاقاتوں کی اجازت دینے کی بھی استدعا کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان کی ہسپتال منتقلی ، وفاقی حکومت نے فیصلے پر سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کر دی
عدالت نے عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی ہے، جس میں فزیشن، جنرل سرجن، ماہرِ امراضِ داخلی، ماہرِ امراضِ چشم اور ماہرِ امراضِ قلب شامل ہوں گے۔ عدالت نے ڈاکٹر عظمیٰ خان اور عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو بھی طبی عمل کا حصہ رہنے کی اجازت دی ہے۔
عدالتی حکم کے تحت عمران خان سے اہل خانہ کی ہفتہ وار ملاقاتیں اور لندن میں مقیم ان کے بیٹوں سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی جاسکے گی۔ تاہم عدالت نے آئندہ سماعت تک ان کے اہل خانہ، پارٹی اور وکلا کو عمران خان کی صحت سے متعلق عوامی سطح پر بیان بازی سے روک دیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کردی ہے۔ حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سزا یافتہ شخص کو فراہم کی جانے والی سہولیات قانونی دائرہ کار کے مطابق ہونی چاہئیں اور عمران خان کا علاج نجی ہسپتال کے بجائے کسی سرکاری ہسپتال میں کرایا جائے۔





