بنگلادیشی ارکانِ پارلیمنٹ نے حکمران جماعت بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سینیئر رہنما مرزا فخر الاسلام عالمگیر کو ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق صدارت بڑی حد تک ایک رسمی عہدہ ہے جس کے تحت مرزا عالمگیر اب سربراہِ مملکت اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے فرائض انجام دیں گے جبکہ ملک کے انتظامی اختیارات بدستور وزیراعظم اور کابینہ کے پاس رہیں گے۔
رواں سال 12 فروری کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے اقتدار میں آنے والی بی این پی اور اس کے اتحادیوں کو پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے جس کے نتیجے میں 78 سالہ مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے پارلیمانی ووٹنگ میں جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کے امیدوار اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین ریٹائرڈ آرمی کرنل اولی احمد کو شکست دی۔
یہ صدارتی انتخاب سابق صدر محمد شہاب الدین کے گزشتہ ماہ خرابیِ صحت کے باعث قبل از وقت مستعفی ہونے کے بعد عمل میں آیا ہے۔ عوامی لیگ کے سابق سیاستدان اور شیخ حسینہ کے قریبی ساتھی محمد شہاب الدین 2023 میں صدر منتخب ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ سال 2024 میں شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد بی این پی نے فروری کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے حکومت بنائی تھی۔ بی این پی کے سینیئر رہنماؤں میں شمار ہونے والے مرزا فخر الاسلام عالمگیر 2016 سے اپنی صدارتی نامزدگی تک پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں اور حسینہ واجد کے دورِ حکومت میں اپوزیشن کی توانا آواز بن کر ابھرنے کی پاداش میں انہیں متعدد بار گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔





