یوگنڈا میں دنیا کے کم عمر ترین بادشاہ اویو نمبا کبمبا اگورو رُکیدی چہارم 34 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔
بادشاہ اویو کی ناگہانی وفات کی اطلاع تورو سلطنت کی وزیراعظم کی جانب سے جاری کی گئی ہے تاہم سلطنت نے ان کی موت کی حتمی وجہ ظاہر نہیں کی۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوگنڈا کے ایک سرکاری وزیر نے بتایا کہ بادشاہ اویو شدید بیمار تھے اور علاج کی غرض سے امریکہ میں زیرِ علاج تھے جہاں وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔
شاہ اویو 1995 میں اپنے والد کے انتقال کے بعد محض 3 سال کی عمر میں مغربی یوگنڈا کی تاریخی تورو سلطنت کے 13 ویں بادشاہ بنے تھے۔ کم سنی کے باعث 18 سال کی عمر تک ان کی والدہ اور سرپرستوں کے بورڈ نے حکومتی امور سنبھالے جس کے بعد ان کی باقاعدہ تاجپوشی کی گئی تھی۔
گنیز ورلڈ ریکارڈز میں دنیا کے کم عمر ترین حکمران کا اعزاز حاصل کرنے والے بادشاہ اویو 20 لاکھ سے زائد افراد کے روایتی سربراہ تھے۔
غیر شادی شدہ ہونے کے باوجود سلطنت کی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ شاہی تاج کا تسلسل مکمل طور پر محفوظ ہے اور ان کا ایک شہزادہ وارث موجود ہے جس کی شناخت کا باضابطہ اعلان تورو کی قدیم روایات و اقدار کے مطابق جلد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : عوام کے لیے خوشخبری: اوگرا نے ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی کر دی
یوگنڈا میں جمہوری نظام حکومت قائم ہونے کے باوجود ان روایتی بادشاہتوں کو عوام میں شدید ثقافتی اور سماجی احترام حاصل ہے۔ اپنے دورِ حکومت میں بادشاہ اویو نے تعلیم، ماحولیاتی تحفظ اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔





