وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 57 واں اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں عوامی سہولت، خواتین کو بااختیار بنانے، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، انتظامی اصلاحات، سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی اور ماحولیات سے متعلق متعدد کلیدی فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صوبائی کابینہ نے خواتین کے لیے الیکٹرک بائیک (EV Bikes) اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہےجس کے پہلے فیز میں کالجز و یونیورسٹیز کی طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کو خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی۔
اس کے ساتھ ہی روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سرسبز ماحول کے فروغ کے لیے ای وی رکشہ اسکیم اور ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں الیکٹرک بسوں کی اسکیم پر کام مزید تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔
کابینہ نے پشاور بس ریپڈ ترانزٹ (BRT) کے لیے مزید 54 بسوں کی خریداری پر عائد کسٹمز ڈیوٹی، ٹیکسز اور درآمدی اخراجات پورا کرنے کے لیے اضافی فنڈز کی منظوری بھی اجلاس میں دی گئی جبکہ صوبے بھر میں رکشوں کی یکساں رجسٹریشن اور شہری علاقوں میں ٹریفک کا بوجھ کم کرنے کے لیے کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔
تعلیمی شعبے میں اہم فیصلہ کرتے ہوئے سال 2027 سے ایم ڈی کیٹ (MDCAT) کا امتحان ایٹا (ETEA) کے ذریعے کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ (CBT) پر منعقد کرانے کی حتمی منظوری دے دی گئی۔ ایٹا ستمبر 2024 سے سی بی ٹی نظام کے تحت 5 لاکھ امیدواروں کے 1300 ٹیسٹ منعقد کر چکا ہے اور اس کے پاس ملک بھر میں 60 مراکز موجود ہیں جہاں روزانہ 26 ہزار امیدواروں کی گنجائش ہے۔ تعلیمی اصلاحات کے سلسلے میں پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی میں دو ماہرینِ تعلیم کی نامزدگی کی منظوری بھی شامل ہے۔
انتظامی امور میں ضلع چارسدہ میں “عمرزئی” کے نام سے نئی تحصیل کے قیام کی منظوری دی گئی جبکہ ڈویژن، تحصیل اور سب تحصیل جیسی انتظامی اکائیوں میں مستقبل کی تبدیلیوں کے لیے بورڈ آف ریونیو، لوکل گورنمنٹ، پی اینڈ ڈی اور فنانس محکموں پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ فیصلے عوامی مفاد کے مطابق ہوں۔
اس کے علاوہ لکی مروت، ٹانک، بونیر، کرک، بٹگرام، چارسدہ اور ایبٹ آباد میں سروس ڈلیوری سینٹرز کے لیے 46 کنٹریکٹ اسامیاں بنانے، ویسٹ پاکستان رجسٹریشن رولز 1929 میں ترامیم، اور کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں دو خالی کمشنر آسامیوں پر تقرریوں کی منظوری دی گئی۔
مالیاتی، فلاحی اور بحالی کے اقدامات کے تحت سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے 1 ارب روپے منظور کیے گئے، جن میں سے 50 کروڑ روپے خاص طور پر ضلع چترال کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ فلڈ ریزیلینس پراجیکٹ کے لیے ورلڈ بینک (IDA) سے اسلامی بینکاری کے اصولوں پر فنانسنگ کی اجازت دی گئی۔
وانا سے تعلق رکھنے والے شہید مولانا مرزا جان کا معاوضہ پیکیج بڑھا کر 1 کروڑ روپے کر دیا گیا، عدالتی افسران کے لیے ٹرانسپورٹ مانیٹائزیشن پالیسی منظور کی گئی اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن خیبر کے لیے 50 لاکھ روپے کی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔
صحت کے شعبے میں خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (KICH) کے باقی ماندہ تعمیراتی کام کے لیے برج فنانسنگ، ڈی ایچ کیو ہسپتال ایم ٹی آئی بنوں کے لیے آنکھوں کے علاج کے آلات کے فنڈز، اور مختلف ہسپتالوں میں فل باڈی اسکینرز کی ازسرِنو تقسیم کی منظوری دی گئی۔
تصدیقی عمل کے بعد تین درخواست گزاروں کی امداد ہسپتالوں کے بجائے ان کے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کی اجازت دی گئی۔
کابینہ نے گاوی ویکسین پورٹفولیو آپٹیمائزیشن اینڈ پرائیورٹائزیشن (وی پی او پی) پروگرام کے تحت ہیکسا ویلنٹ ویکسین، پی سی وی-14، ڈی پی ٹی بوسٹر ڈوز اور ہیپاٹائٹس-بی برتھ ڈوز سے متعلق ملکی سطح کے اقدامات کی صوبائی منظوری دی۔
اس منظوری کے بعد پینٹا ویلنٹ اور آئی پی وی سے ہیکسا ویلنٹ ویکسین کی طرف منتقلی ممکن ہو سکے گی، جس میں کئی اینٹیجنز کو ایک ہی ویکسین میں شامل کیا جائے گا جس سے مالیاتی اخراجات میں بڑی حد تک کمی آئے گی۔
دیگر اہم فیصلوں میں جنگلات کے شعبے میں خشک اور ہوا سے گرے درختوں کی لکڑی شفاف طریقے سے نیلام کرنے کا طریقہ کار، پاکستان اور تاجکستان کے درمیان مقامی ترقی کا ایم او یو، اور پشاور میں 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کے تین کھیلوں (تیر اندازی، جوڈو، والی بال) کے فنڈز منظور کیے گئے۔
صوبائی اسمبلی میں مشترکہ قرارداد نمبر 240، الیکشن کمیشن کی سالانہ رپورٹ 2025 اور خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کی مالی سال 25-2024 کی رپورٹ پیش کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔
اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے تمام شعبوں کو بیوروکریٹک رکاوٹوں سے بالاتر ہو کر آؤٹ آف دی باکس اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور عزم ظاہر کیا کہ رواں مالی سال خیبرپختونخوا کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہو گا۔





