سینئر سیاست دان محمد علی درانی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا مطالبہ عوامی مفاد اور بہتر انتظامی نظام کے قیام کے لیے ہے، وہ نئے صوبوں اور مؤثر بلدیاتی نظام کے حامی ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے محمد علی درانی نے کہا کہ نئے صوبوں کی بات کرنے والوں کو اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے اور بتایا جائے کہ یہ مطالبہ کہاں سے اور کس بنیاد پر سامنے آرہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبے کے لیے ان کی جدوجہد 2008 میں شروع ہوئی جبکہ 2012 میں پنجاب اسمبلی سے نئے صوبے کے قیام کی قرارداد بھی منظور کرائی گئی، بہاولپور سمیت جنوبی پنجاب میں انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
محمد علی درانی نے کہا کہ اچھی کاز کو کمزور ہینڈلنگ کی وجہ سے خراب نہیں کرنا چاہیے، معاملے میں اگر کوئی وضاحت موجود ہے تو اسے کھل کر سامنے لایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: سسٹم اوور لوڈڈ ہے،160 بااختیار ضلعی حکومتیں یا 15 صوبے بنادیئے جائیں، احسن اقبال کی تجاویز سامنے آگئیں
ان کا کہنا تھا کہ محسن نقوی اہم پوزیشن پر ہیں، انہیں معاملے کی وضاحت کرنی چاہیے جبکہ کابینہ کے ذریعے بھی صورتحال واضح کی جانی چاہیے، عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ معاملہ کہاں سے آرہا ہے اور کہاں جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاملے کی غلط ہینڈلنگ سے عوامی تاثر متاثر ہوا ہے اور ایسا تاثر نہیں ہونا چاہیے کہ یہ معاملہ کسی غیبی قوت کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔





