اسلام آباد کے مستقبل کا نیا انتظامی نقشہ وزیراعظم کو پیش، چیف ایگزیکٹیو وزیراعلیٰ ہوگا یا میئر ؟ تفصیلات سامنےآگئیں

اسلام آباد کے مستقبل کا نیا انتظامی نقشہ وزیراعظم کو پیش، چیف ایگزیکٹیو وزیراعلیٰ ہوگا یا میئر ؟ تفصیلات سامنےآگئیں

Pakistan SCO Summit 2026

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں روایتی بلدیاتی انتخابات کا باب تمام کرتے ہوئے ایک بالکل نیا اور منفرد سیاسی و انتظامی نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی نے دارالحکومت کے لیے ایک باقاعدہ قانون ساز اسمبلی تشکیل دینے کی تجاویز تیار کر لی ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے 240 دن مکمل ہونے جا رہے ہیں اور آئندہ چند روز میں اس کی مدت ختم ہونے پر یہ خود بخود غیر مؤثر ہو جائے گا۔

حکومت نے ان انتخابات پر توجہ دینے کے بجائے وفاقی دارالحکومت کو ایک صوبائی طرز کا خودمختار انتظامی ڈھانچہ دینے کا پلان بنایا ہے۔

مجوزہ مسودے کے مطابق اسلام آباد کے لیے 27 رکنی اسمبلی بنائی جائے گی، جس میں سے 21 ارکان براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوں گے۔

 یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں منفردمقامی حکومتوں کے نظام کی منظوری دے دی

اس کے علاوہ اسمبلی میں خواتین کے لیے 5 اور اقلیتوں کے لیے ایک نشست مخصوص رکھی جائے گی۔

قومی اسمبلی کے ہر حلقے کے تحت اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) اسمبلی کی 7 نشستیں قائم ہوں گی، اور اس کے انتخابات الیکشن کمیشن کے زیرِ اہتمام کرائے جائیں گے جبکہ اراکین پر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی شقیں بھی لاگو ہوں گی۔

نئے نظام کے تحت دارالحکومت کا ایک منتخب چیف ایگزیکٹو ہوگا، جس کے لیے “وزیراعلیٰ” یا “میئر” کا عہدہ تجویز کیا گیا ہے اور یہ سربراہ نئی اسمبلی کے سامنے جوابدہ ہوگا۔

 یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات،پی ٹی آئی کا بھرپور حصہ لینے کا اعلان

مجوزہ منصوبے کے تحت صحت، تعلیم، ماحولیات اور شہری سہولیات سمیت 27 انتظامی محکمے اس نئی حکومت کے حوالے کیے جائیں گے، تاہم امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے اہم اختیارات وفاق کے پاس ہی رہیں گے جبکہ سی ڈی سمیت دیگر اداروں کے اختیارات کو بھی نئے سرے سے ترتیب دیا جائے گا۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top