نئے صوبوں کے قیام کو پشاور کے طلباء نے عوامی مسائل کے حل کے لیے ضروری قرار دے دیا

Pakistan SCO Summit 2026

پشاور: ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے مختلف حلقوں کی آرا سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، پشاور کے طلباء نے بھی نئے صوبوں کے قیام کو تعلیم، صحت اور دیگر عوامی مسائل کے حل کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔

پشاور کے طلباء کا کہنا ہے کہ نئے صوبے بننے سے انتظامی کنٹرول مزید مضبوط ہوگا اور عوام کے لیے حکمرانوں تک رسائی آسان ہو جائے گی۔

ان کے مطابق صوبوں کی تقسیم کے نتیجے میں این ایف سی ایوارڈ اور مالیاتی وسائل کی تقسیم کے نظام میں بھی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

طلباء کا مؤقف ہے کہ رقبے کے لحاظ سے صوبے جتنے چھوٹے ہوں گے، ان کا انتظامی کنٹرول اتنا ہی مؤثر اور آسان ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : راشد منہاس شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھانے کی پروقار تقریب، پاک فضائیہ کے چاق و چوبند دستے کی سلامی

چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام سے وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن بنانے کے ساتھ ساتھ سیاسی آواز کو بھی زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد وزرائے اعلیٰ کی موجودگی سے انتظامی یونٹس کا نظامِ حکومت مزید آسان اور مؤثر ہو سکتا ہے۔

شہریوں کے مطابق نئے صوبوں کا قیام ملکی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ عوام کی بڑی تعداد اسے عوامی مسائل کے حل کی ضمانت بھی قرار دے رہی ہے۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top