اے آئی محقق جیکب کاکسن کے مصنوعی ذہانت سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات

Pakistan SCO Summit 2026

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے سے وابستہ محقق جیکب کاکسن نے اینتھروپک سے استعفیٰ دے کر اے آئی کے مستقبل اور انسانی بقا سے متعلق سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔

جیکب کاکسن، جو اس سے قبل اوپن اے آئی میں بھی کام کر چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے باعث رواں دہائی کے اختتام تک انسانیت کو تباہ کن خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ان کے مطابق اوپن اے آئی اور اینتھروپک سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں خود کو بہتر بنانے والی سپر انٹیلیجنس تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں، تاہم اس ٹیکنالوجی کو انسانی کنٹرول میں رکھنے کیلئے درکار حفاظتی اقدامات ابھی ناکافی ہیں۔

جیکب کاکسن نے خبردار کیا کہ مستقبل میں اے آئی سسٹمز سائبر حملوں، اہم انفراسٹرکچر تک رسائی اور دیگر خطرناک سرگرمیوں کی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں۔ اگر اے آئی کو خود اے آئی کی تحقیق اور بہتری کیلئے استعمال کیا جانے لگا تو ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہے۔

ان کے مطابق ایک مرحلہ ایسا بھی آسکتا ہے جب انتہائی ذہین اے آئی سسٹمز انسانی صلاحیتوں سے بہت آگے نکل جائیں اور انہیں قابو میں رکھنا مشکل ہوجائے۔

اینتھروپک کے الائنمنٹ سائنس لیڈ ایون ہیوبنگر نے بھی جزوی طور پر ان خدشات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اگلی دہائی میں اے آئی کے باعث انسانیت کے خاتمے کے امکان کو 10 فیصد سے زیادہ سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی نے ایف 16 طیارہ اڑاکر تاریخ رقم کردی

کاکسن کے مطابق اے آئی کی دوڑ تیز کرنے کے بجائے عالمی سطح پر حفاظتی اقدامات اور ذمہ دارانہ پیش رفت پر توجہ دینا ضروری ہے۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top