فیصل آباد: نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی (نیاب)، فیصل آباد میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے تعاون سے فصلوں کو موسمیاتی تبدیلیوں اور مختلف زرعی خطرات سے محفوظ بنانے کے حوالے سے دو ہفتوں پر مشتمل علاقائی تربیتی کورس اختتام پذیر ہوگیا۔
کورس کا انعقاد پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے ذیلی ادارے نیاب نے آئی اے ای اے کے تعاون سے کیا، جس میں 17 ممالک کے 34 ماہرین اور سائنسدانوں نے شرکت کی، جبکہ پاکستان سے 6 شرکا بھی تربیتی پروگرام کا حصہ تھے۔
اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ممبر سائنس ڈاکٹر شکیل عباس روفی تھے، جنہوں نے کورس مکمل کرنے والے شرکا کو مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی میں پرامن مقاصد کے لیے نیوکلیئر سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں پی اے ای سی کے کردار کو اجاگر کیا۔
ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے بتایا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زراعت اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے چار خصوصی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر (NIA)، نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی (NIAB)، نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ اینڈ ایگریکلچر (NIFA) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ (NIBGE) موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والی فصلوں کی تیاری، پائیدار زرعی طریقوں کے فروغ اور ملکی غذائی تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پرائمری سکولوں میں اساتذہ کی کمی، پی ٹی سی اساتذہ دوبارہ تعینات ہوں گے
انہوں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی دیگر خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پی اے ای سی کے 21 کینسر اسپتال ملک کے تقریباً 80 فیصد کینسر مریضوں کو تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں، جبکہ کمیشن کے 6 نیوکلیئر پاور پلانٹس قومی بجلی کے نظام کو تقریباً 3500 میگاواٹ بجلی فراہم کر رہے ہیں۔
ممبر سائنس نے جدید تحقیق اور ماہر افرادی قوت کی تیاری میں بھی پی اے ای سی کے کردار کو اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (PIEAS)، کراچی انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر پاور انجینئرنگ (KINPOE)، چاشنٹ (CHASCENT) اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (PINSTECH) جیسے ادارے اس حوالے سے اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے بتایا کہ نیاب خوراک اور زراعت میں نیوکلیئر تکنیکوں کے استعمال کے حوالے سے آئی اے ای اے کا کولیبریٹنگ سینٹر بھی ہے، جو ادارے کی فنی مہارت اور بین الاقوامی سطح پر اس کے دیرینہ تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، فصلوں کو مضبوط بنانے اور غذائی تحفظ کے لیے پی اے ای سی کا آئی اے ای اے اور جوائنٹ ایف اے او/آئی اے ای اے سینٹر کے ساتھ تعاون انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے آئی اے ای اے کی مسلسل معاونت کو سراہتے ہوئے پاکستان اور نیاب کو علاقائی تربیتی کورس کی میزبانی کے لیے منتخب کرنے پر ادارے کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک کے سائنسدانوں کے لیے پاکستان میں خصوصی تربیت کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سائنسی ادارے، لیبارٹریاں اور ماہرین جدید تکنیکی تربیت فراہم کرنے اور اپنی مہارت بین الاقوامی سطح پر شیئر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں میں 15 ہزار 684 اساتذہ کی کمی
آئی اے ای اے کی پروگرام مینجمنٹ آفیسر محترمہ لن یانگ نے بھی کورس مکمل کرنے والے شرکا کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کورس کی کامیابی کے لیے حکومت پاکستان اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تعاون کو سراہا اور آئی اے ای اے کے کولیبریٹنگ سینٹر کی حیثیت سے نیاب کی مسلسل معاونت پر بھی اظہار تشکر کیا۔
محترمہ لن یانگ نے شرکا کی دلچسپی اور بھرپور شرکت کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا عزم اور سرگرم شمولیت ان کے ساتھ ساتھ ان کے متعلقہ ممالک کے معیار کی عکاسی کرتی ہے۔
نیاب 1972 میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت قائم کیا گیا تھا اور اسے زراعت و حیاتیات کے شعبے میں نیوکلیئر اور جدید تکنیکوں کے استعمال کا پانچ دہائیوں سے زائد کا تجربہ حاصل ہے۔
ادارے کی زرعی تحقیق اور خدمات کے اعتراف میں اسے 2015 اور 2021 میں آئی اے ای اے/ایف اے او کے آؤٹ اسٹینڈنگ اچیومنٹ ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔ نیاب کی تیار کردہ بائیو سیلائن ایگریکلچر ٹیکنالوجی، یعنی نمکیات سے متاثرہ زمینوں میں کاشت کاری کی ٹیکنالوجی، آئی اے ای اے کے تعاون سے 12 سے زائد ممالک تک بھی پہنچ چکی ہے۔
تربیتی کورس ایسے وقت میں منعقد کیا گیا جب موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بے ترتیب بارشوں، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، زمین میں نمکیات، کیڑوں اور بیماریوں کے پھیلاؤ سے زراعت کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
دو ہفتوں پر مشتمل کورس میں نیوکلیئر اور مالیکیولر ٹیکنالوجیز کے استعمال پر توجہ دی گئی، جن کے ذریعے پودوں میں جینیاتی تبدیلیاں پیدا کرکے فصلوں کو کیڑوں، بیماریوں، خشک سالی، نمکیات اور شدید درجہ حرارت جیسے عوامل کے خلاف زیادہ مضبوط بنانے کی تربیت دی گئی۔
شرکا کو میوٹیشن بریڈنگ، مالیکیولر اسکریننگ، جین ٹائپنگ اور فینوٹائپنگ، مارکر اسسٹڈ سلیکشن، جینوم ایڈیٹنگ، فنکشنل جینومکس، ایسوسی ایشن میپنگ اور ڈی این اے سیکوینسنگ سمیت مختلف جدید تکنیکوں سے روشناس کرایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں 100 سے زائد ہاسٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کی کڑی نگرانی کا فیصلہ
اس کے علاوہ درست اور بہتر فصلوں کی افزائش کے لیے بگ ڈیٹا کے تجزیے اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی تربیت فراہم کی گئی۔
پروگرام میں تکنیکی لیکچرز کے ساتھ عملی لیبارٹری تربیت بھی شامل تھی، جبکہ شرکا نے نیاب اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ (NIBGE) کے ادارہ جاتی دورے بھی کیے۔
شرکا نے ڈی این اے کی تیاری اور تجزیے، جینوٹائپنگ بائی سیکوینسنگ، میوٹیشن بریڈنگ، مالیکیولر اسکریننگ، میٹابولائٹ اینالیسس اور ایسوسی ایشن میپنگ سمیت مختلف تکنیکوں کی عملی مشق کی۔
چین کی چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (CAAS) کے انسٹی ٹیوٹ آف کراپ سائنسز سے پروفیسر ڈاکٹر یون بی ژو اور ڈاکٹر ہوجن گو نے بھی اپنی مہارت اور تجربات شرکا کے ساتھ شیئر کیے، جبکہ پاکستانی سائنسدانوں اور ماہرین نے بھی تربیت فراہم کی۔
یہ تربیتی کورس آئی اے ای اے کے ٹیکنیکل کوآپریشن پروجیکٹ RAS5102 کے تحت منعقد کیا گیا، جس کا مقصد جدید نیوکلیئر اور متعلقہ تکنیکوں کے ذریعے مضبوط اور پائیدار زرعی و غذائی نظام کو فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے رہائشیوں کو بڑی خوشخبری سنا دی
کورس ڈائریکٹر اور نیاب کے پرنسپل سائنٹسٹ ڈاکٹر میاں عبدالرحمان عارف نے بتایا کہ تربیتی پروگرام میں مختلف جدید تکنیکوں اور طریقہ کار کو ایک ہی پروگرام کا حصہ بنایا گیا، جس سے شرکا کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ فصلوں کی افزائش کے دوران ان تکنیکوں کو یکجا کرکے مؤثر انداز میں کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اختتامی تقریب میں ڈائریکٹر نیاب ڈاکٹر عظمیٰ مقبول نے اظہار تشکر کرتے ہوئے آئی اے ای اے، بین الاقوامی اور پاکستانی ماہرین، شرکا اور منتظمین کی معاونت کو سراہا۔
تقریب کے دوران ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے تربیتی کورس مکمل کرنے والے شرکا میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے۔
علاقائی تربیتی کورس کا کامیاب انعقاد پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے درمیان پرامن مقاصد کے لیے نیوکلیئر سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے شعبے میں دیرینہ تعاون کی ایک اور مثال قرار دیا گیا۔
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مطابق نیاب جیسے اداروں کے ذریعے سائنسی مہارت کو دیگر ممالک تک پہنچانے، بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے اور نیوکلیئر و متعلقہ ٹیکنالوجیز کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، پائیدار زراعت اور پاکستان سمیت خطے میں غذائی تحفظ کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔





