پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شیر افضل مروت نے اپنی ہی پارٹی کی صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ڈرامائی انداز میں پیش آنے والے مبینہ اغوا کے واقعات پر سخت سوالات اٹھا دیے ۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے طنز کا تیر چلاتے ہوئے کہا کہ ’’اغوا برائے تاوان تو سنا تھا لیکن اغوا برائے تیرہ منٹ پہلی بار سن رہے ہیں، یعنی محض 13 منٹ کے بعد اغوا کا معاملہ ہی ختم ہو گیا!‘‘۔
انہوں نے صوبائی حکومت کی انتظامی کارکردگی اور حکمتِ عملی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی ناہلی کو چھپانے کے لیے اس طرح کی کہانیاں تراش رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اپنی ہی حکومت کے دوران اس قسم کے ڈرامے رچانا اور پھر محض چند منٹوں میں سب کچھ ٹھیک ہو جانے کے دعوے کرنا عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں عوامی غضب: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی انتشار پھیلاؤ کی سیاست کے خلاف لاہوریوں کا شدید ردِعمل، عوام نے مسترد کردیا
شیر افضل مروت نے اپنی پارٹی کی صوبائی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ ایسی غیر منطقی باتیں کرنے اور سیاسی مظلومیت کا کارڈ کھیلنے کے بجائے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی واقعی صورتِ حال اور عوامی مسائل کی حل پر توجہ دیں۔





