مطالبات پورے نہ ہوئے تو 25 ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کریں گے، کسان اتحاد

Pakistan SCO Summit 2026

کراچی: کسان اتحاد نے مطالبات تسلیم نہ ہونے اور زرعی مسائل حل نہ کیے جانے کی صورت میں 25 ستمبر کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھرپور احتجاج کا اعلان کردیا۔

کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ اور سندھ آبادگار اتحاد کے صدر نواب زبیر تالپر نے گندم، چینی، پانی، زرعی اجناس اور کسانوں کے لیے فیول سبسڈی سمیت مختلف مسائل پر حکومت کو اپنے مطالبات پیش کیے۔

خالد حسین باٹھ نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں اکتوبر جبکہ پنجاب میں نومبر سے گندم کی کاشت شروع ہوجاتی ہے، تاہم ابھی تک کسی صوبائی حکومت نے گندم خریداری کی پالیسی واضح نہیں کی۔

ان کے مطابق گزشتہ تین برس سے کسانوں کو پیداواری لاگت سے کم قیمت مل رہی ہے، جس کے باعث گندم کی کاشت میں کمی آئی اور اب ملک کو تقریباً ساڑھے 7 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ گندم کی قیمت پیداواری لاگت اور مناسب منافع کو مدنظر رکھ کر مقرر کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو ڈیزل پر سبسڈی اور کھاد، یوریا سمیت دیگر زرعی مداخل پر ریلیف دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا، حافظ نعیم الرحمان

کسان اتحاد کے چیئرمین نے افغانستان سے پیاز اور ٹماٹر سمیت زرعی اجناس کی غیر قانونی آمد روکنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ مقامی فصل تیار ہونے کے باوجود درآمدات سے پاکستانی کسان متاثر ہورہے ہیں۔

گنے کے حوالے سے خالد حسین باٹھ نے نومبر میں کرشنگ سیزن شروع کرنے، کسانوں کے سابقہ واجبات کی ادائیگی اور آئندہ سیزن کے لیے گنے کی کم از کم سپورٹ پرائس 650 روپے فی 40 کلو مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو شوگر ملوں کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔

کسان رہنماؤں نے پانی کی کمی کو فوڈ سیکیورٹی کے لیے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے سندھ طاس معاہدے پر مؤثر عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ناقص بیج اور بڑھتی ہوئی زرعی لاگت کے باعث ملکی زرعی پیداوار متاثر ہورہی ہے۔

سندھ آبادگار اتحاد کے صدر نواب زبیر تالپر نے کہا کہ حکومت نے گندم کے لیے 4 ہزار روپے فی من قیمت دینے کا وعدہ کیا تھا، تاہم کسانوں سے اس سے کم قیمت پر گندم خریدی گئی۔

کسان اتحاد کے رہنماؤں کے مطابق پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی کسان تنظیموں سے مشاورت جاری ہے اور مطالبات حل نہ ہوئے تو 25 ستمبر کو تمام تنظیمیں اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج میں شریک ہوں گی۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top