جنیوا میں اقوام متحدہ کی کونسل کے اجلاس کے موقع پر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
اجلاس میں عالمی ماہرین نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک اہم بین الاقوامی قانونی فریم ورک ہے اور بھارت کی جانب سے اسے یکطرفہ طور پر معطل کرنا بین الاقوامی قانون سے متصادم ہے۔
ماہرین نے پرمننٹ کورٹ آف آربیٹریشن کے اگست 2026 کے فیصلے پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان زیریں ریاست کی حیثیت سے دریائے سندھ کے منصفانہ اور باقاعدہ بہاؤ کا حق رکھتا ہے۔
شرکا کے مطابق بھارتی آبی اقدامات سے پاکستان میں کروڑوں افراد کی زراعت، خوراک اور پانی کی ضروریات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ پانی کے معاملے پر یکطرفہ اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی آبی جارحیت، پاکستان میں سیلابی صورتحال بدستور برقرار
جنیوا ایونٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ بھارت کو بین الاقوامی آبی معاہدوں کی پاسداری اور سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر آمادہ کرے۔
شرکا نے پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ اور خطے میں آبی انصاف اور منصفانہ پانی کی تقسیم کے لیے عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔





