خیبر پختونخوا میں بڑھتے سیکیورٹی خدشات، تیرہ سالہ حکمرانی کا حاصل کیا نکلا؟ تہلکہ خیز رپورٹ

پشاور: خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی مسلسل تقریباً 13 سالہ حکمرانی کے باوجود دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، سیکیورٹی اہلکاروں و شہریوں کی شہادتوں اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو درپیش شدید لاجسٹک بحران نے صوبائی حکومت کی انتظامی صلاحیت اور ترجیحات پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

 طویل عرصہ اقتدار میں رہنے کے باوجود سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ کرنا اب ایک سنگین قومی بحث کا روپ دھار چکا ہے۔

وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے 5 اکتوبر 2026 کو سامنے آنے والے بیان کے مطابق، خیبر پختونخوا میں گزشتہ دو برسوں کے دوران دہشت گردی کے تقریباً 6 ہزار 200 خونریز واقعات پیش آئے، جن میں 1,200 سے زائد قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا پولیس ہائی الرٹ، احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے نئے احکامات جاری

 یہ ہولناک اعداد و شمار صوبے میں امن و امان کے بگاڑ کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے زبانی دعووں کے بجائے مضبوط اداروں اور عملی اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔

محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی عملی استعداد کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس نہایت تشویشناک ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق محکمے میں 3 ہزار 844 منظور شدہ آسامیوں میں سے 3 ہزار 113 پُر کی جا سکی ہیں جبکہ 731 اہم آسامیاں تاحال خالی پڑی ہیں۔

وسائل اور جدید آلات کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال مزید ابتر نظر آتی ہے:

بلٹ پروف گاڑیاں:پورے صوبے میں حساس آپریشنز کے لیے سی ٹی ڈی کے پاس صرف 17 بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب ہیں۔

جدید اسلحہ: خصوصی ہائی پروفائل کارروائیوں کے لیے محکمے کو 200 ایم فور (M4) جدید رائفلوں کی اشد ضرورت تھی، تاہم صرف 9 رائفلیں فراہم کی جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں معمولاتِ زندگی برقرار، سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں

نائٹ ویژن و تھرمل آلات: رات کے اوقات میں سیکیورٹی اور ٹارگٹڈ آپریشنز کے لیے درکار نائٹ ویژن ڈیوائسز اور تھرمل امیجنگ آلات بھی مطلوبہ تعداد سے ناپید ہیں۔

دوسری جانب سی ٹی ڈی کا بنیادی انفراسٹرکچر بہتر بنانے، ضلعی دفاتر اور علاقائی ہیڈکوارٹرز قائم کرنے کے لیے 5 ارب 33 کروڑ روپے سے زائد کی منظوری کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

ِ سیکیورٹی کے مطابق اصل امتحان محض فنڈز کی منظوری نہیں بلکہ اس رقم کا شفاف اور فوری استعمال ہے تاکہ خالی آسامیاں پُر کی جا سکیں اور اہلکاروں کو جدید ترین ہتھیاروں اور محفوظ گاڑیوں سے لیس کیا جا سکے۔

Scroll to Top