سینئر صحافی ظاہر شاہ شیرازی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی گورنر راج پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ صوبائی حکومت کے دہشت گردی سے متعلق غیر محتاط اور مشکوک رویے کا بوجھ ہے کیونکہ ان کا بیانیہ اور دہشت گردوں کا بیانیہ ایک ہی لائن پر گامزن تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی بقا اور امن و امان کی بہتری کے لیے یہ فیصلہ بہت پہلے آ جانا چاہیے تھا۔ اب جب حالات معمول پر آ جائیں اور پائیدار امن قائم ہو جائے تو سیاسی عمل کی بحالی میں کوئی ہرج نہیں لیکن فی الوقت یہ قدم بالکل وقت کی ضرورت تھا۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کے حمایتی کمشنر پشاور کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ
ظاہر شاہ شیرازی نے کہا کہ صوبے میں انتشار کی سیاست کو ہوا دی جا رہی تھی اور وفاقی حکومت کے ساتھ سخت تناؤ قائم تھا۔ وزیراعلیٰ ریڈیو پاکستان پر حملے کی کارروائی میں محض ملزم نہیں بلکہ سزا یافتہ مجرم بن کر نااہل ہو چکے تھے۔ پی ٹی آئی کے بیانیے نے ملک کو نقصان پہنچایا اور تمام تر مذاکراتی راستے فراہم کرنے کے باوجود پی ٹی آئی نے لچک دکھانے سے انکار کر دیا تھا۔





