خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے فوری بعد صوبائی بیوروکریسی کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کرنے کے لیے بڑا انتظامی قدم اٹھا لیا گیا ہے۔
وفاقی ہدایات کی روشنی میں پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ صوبائی حکومت کے قریبی اور حمایتی سمجھے جانے والے کمشنر پشاور ریاض خان محسود کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ریاض خان محسود کا شمار پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کے انتہائی قریبی اور بااثر افسران میں ہوتا ہے۔ وہ پی ٹی آئی کے سینیٹر دوست محمد محسود کے بیٹے اور جنوبی وزیرستان سے منتخب سابق ممبر صوبائی اسمبلی آصف خان محسود کے بھائی ہیں۔
صوبے میں گورنر راج اور وفاقی کنٹرول سنبھالنے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے یہ کارروائی سیاسی وابستگی رکھنے والے افسران کو اہم عہدوں سے الگ کرنے کی پالیسی کے تحت کی جا رہی ہے۔
انتظامی اور سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں غیر جانبدارانہ انتظامی امور چلانے اور امن و امان کی بحالی کے لیے یہ اقدام انتہائی ناگزیر تھا۔
ریاض خان محسود کو ہٹائے جانے کے بعد اب ان کی جگہ ایک غیر جانبدار اور سینیئر افسر کی تعیناتی کی سفارشات تیار کی جا رہی ہیں جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع اور ڈویژنز میں بھی پی ٹی آئی دور کے تعینات کردہ بااثر افسران کی تبدیلی کا امکان ہے۔





